تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 612
بیمار کا ہو سکتا ہے کہ ممکن ہے وہ اپنی بیماری کی وجہ سے بعض کھانے نہ کھائے اور دوسرے لوگ کھا جائیں اس لئے اندھوں ،لنگڑوں اور بیماروں کے ساتھ مل کر کھانا نہیں کھانا چاہیے۔اسی طرح انہوں نے اپنے رشتہ داروں کے ہاں بھی کھانا کھانا ترک کر دیا کہ مباد ا کوئی گناہ ہو جائے اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ بے شک ان کے ساتھ مل کر کھانا کھا لیا کرو۔اور بلاتکلف اپنے قریبی رشتہ داروں کے گھروں میں بھی آیا جایا کرو۔اور ان کے ساتھ مل کر یا علیٰحدہ علیٰحدہ جس طر ح چاہو۔اور اس قسم کے وساوس سے باہمی تعلقات ِ محبت کو منقطع نہ کرو۔اس کے مقابلہ میں بعض لوگ کہتے ہیں کہ خود اندھے اور لنگڑے اور بیمار اپنی بیماری کی وجہ سے تندرستوں کے ساتھ مل کر کھانا کھانا پسند نہیں کرتے تھے تا ایسا نہ ہو کہ ان کی معذوری اور بیماری کی وجہ سے لوگوں کو کوئی تکلیف محسوس ہو۔اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور انہیں بھی تندرستوں کے ساتھ مل کر کھانا کھانے کی اجازت دے دی گئی۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ وہ لوگ جن کی مالی حالت کمزور ہوا کرتی تھی اور اُن کے لئے گھروں میں کھانے کا پورا سامان نہیں ہوا کرتا تھا۔اُن کا طریق تھا کہ وہ عموماً معذوروں کو اپنے رشتہ داروں کے گھر لے جا کر کھانا کھلا دیا کرتے تھے۔لیکن جن کو ساتھ لے جاکر کھانا کھلاتے تھے وہ برا مناتے تھے اور سمجھتے تھے کہ ہمیں غیروں کے گھروں میں کھانے کے لئے کیوں لے جایا جاتا ہے۔اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور ہدایت فرمائی کہ اپنے قریبی رشتہ داروں کے گھروں سے کھانا کھا لینے میں کوئی حرج نہیں۔ضحاکؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے اہل مدینہ اپنے کھانے میں اندھوں ، لنگڑوں اور بیماروں کو خصوصیت کے ساتھ شامل نہیں کیا کرتے تھے۔اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور اُن کے ساتھ مل کر کھانا کھانے کو جائز قرار دےد یا۔مفسرین میں اس بات پر بھی بحث ہوئی ہے کہ آیا یہ آیت منسوخ ہے یا محکم۔بعض نے تو یہ کہا ہے کہ یہ آیت منسوخ ہے اور وہ اس کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ ابتدائے اسلام میں مکانوں کے دروازے نہیں ہوا کرتے تھے۔صرف پردے لٹکا دئے جاتے تھے۔اس لئے جب کسی کو بھوک ستاتی تو وہ پردہ اٹھا کر اندر آجاتا۔حالانکہ بعض دفعہ گھر میں کوئی شخص بھی نہیں ہوتا۔اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اُن کے اس فعل کو جائز قرار دے دیا مگر بعد میں جب دروازے لگ گئے اور قرآن کریم نے بھی یہ ہدایت دے دی کہ گھروں میں بلااجازت داخل نہ ہو ا کرو تو اب کسی کے لئے یہ جائز نہ رہا کہ وہ بلا اجازت دوسرے کے گھر میں داخل ہو کر کھانے پینے کی چیزیں اٹھا لے۔اور چونکہ اس آیت میں اجازت پائی جاتی ہے اس لئے یہ آیت منسوخ ہے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ آیت منسوخ نہیں بلکہ ناسخ