تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 593 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 593

ہو (امداد الفتاوی مختصر سوانح حیات اشرف علی تھانوی باب صلاۃ الجمعۃ وا لعیدین و فتاویٰ نذیر یہ کتاب الجمعۃ ) ہندوستان میں انگریزی حکومت کی وجہ سے چونکہ نہ مسلمان سلطان رہا تھا۔نہ قاضی اس لئے وہ جمعہ کی نماز پڑھنا جائز نہیں سمجھتے تھے ادھر چونکہ قرآن کریم میں وہ یہ لکھا ہوا پاتے تھے کہ جب تمہیں جمعہ کے لئے بلایا جائے تو فوراً تمام کام چھوڑ تے ہوئے جمعہ کی نماز کے لئے چل پڑو(الجمعۃ:۱۰)۔اس لئے ان کے دلوں کو اطمینان نہ تھا۔ایک طرف ان کا جی چاہتا تھا کہ وہ جمعہ پڑھیں اور دوسری طرف وہ ڈرتے تھے کہ کہیں کوئی حنفی مولوی ہمارے خلاف فتویٰ نہ دےدے۔اس مشکل کی وجہ سے ان کا یہ دستور تھا کہ جمعہ کے روز گائوں میں پہلے جمعہ پڑھتے اور پھر ظہر کی نماز ادا کر لیتے۔اور وہ خیال کرتے کہ اگر جمعہ والامسئلہ درست ہے تب بھی ہم بچ گئے۔اگر ظہر پڑھنے والا مسئلہ صحیح ہے تب بھی ہم بچ گئے۔اسی لئے وہ ظہر کا نام ظہر کی بجائے ’’ احتیاطی ‘‘ رکھا کرتے تھے اور سمجھتے تھے کہ خدا نے اگر ہمارے جمعہ کی نماز کو الگ پھینک دیا تو ہم ظہر کو اٹھا کر اس کے سامنے رکھ دیں گے اور اگر اُس نے ظہر کو رّد کر دیا تو ہم جمعہ اس کے سامنے پیش کر دیں گے۔اور اگر کوئی ’’ احتیاطی ‘‘ نہ پڑھتا تو سمجھا جاتا کہ وہ وہابی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ ہم مولوی غلام علی صاحب کے ساتھ گورداسپور گئے۔راستہ میں جمعہ کا وقت آ گیا۔ہم نماز پڑھنے کے لئے ایک مسجد میں چلے گئے۔آپ کا عام طریق وہابیوں سے ملتا جلتا تھا کیونکہ وہابی حدیثوں کے مطابق عمل کرنا اپنے لئے ضروری جانتے ہیں اور ان کا عقیدہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سُنت پر عمل کرنا ہی انسان کی نجات کے لئے ضروری ہے۔غرض آپ بھی مولوی غلام علی صاحب کے ساتھ گئے اور جمعہ کی نماز پڑھی۔جب مولوی غلام علی صاحب جمعہ کی نماز سے فارغ ہوگئے تو انہوں نے چار رکعت ظہر کی نماز پڑھ لی۔آپ فرماتے تھے کہ میں نے اُن سے کہا کہ مولوی صاحب یہ جمعہ کی نماز کے بعد چار رکعتیں کیسی ہیں۔وہ کہنے لگے یہ ’’ احتیاطی ‘‘ ہے میں نے کہا۔مولوی صاحب ! آپ تو وہابی ہیں اور عقیدۃ ً اس کے مخالف ہیں۔پھر ’’ احتیاطی ‘‘ کے کیا معنے ہوئے وہ کہنے لگے یہ احتیاطی ان معنوں میں نہیں کہ خدا کے سامنے ہمارا جمعہ قبول ہوتا ہے یا ظہر بلکہ یہ ان معنوں میں ہے کہ لوگ مخالفت نہ کریں۔تو کئی لوگ اس طرح بھی کام کر لیتے ہیں جیسے مولوی غلام علی صاحب نے کیا کہ اپنے دل میں تو وہ اس بات پر خوش رہے کہ انہوں نے جمعہ پڑھا ہے اور اُدھر لوگوں کو خوش کرنے کے لئے چار رکعت ظہر کی نماز بھی پڑھ لی۔اسی طرح ایک لطیفہ مشہور ہے کہتے ہیں کہ کوئی سُنی بزرگ تھے جو شیعوں کے علاقہ میں رہتے تھے ایک دفعہ غربت کی وجہ سے وہ بہت پریشان ہو گئے اور انہوں نے فیصلہ کیا کہ بادشاہ کے پاس پہنچ کر مدد کی درخواست کرنی چاہیے۔چنانچہ وہ اس کے پاس گئے اور مدد کی درخواست کی۔وزیر نے اُن کی شکل کو دیکھ کر بادشاہ کو کہا کہ یہ شخص