تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 592
نے اس صحابی کو اپنے سامنے سونے کے کڑے پہنائے (اسد الغابة ،سراقة بن مالکؓ )۔اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ خلفاء راشدین فوت ہوگئے تو ان کی وفات کے سالہا سال بعد خدا تعالیٰ نے اُن کے خوف کو امن سے بدلا۔کبھی سو سال بعد کبھی دو سو سال بعد۔کبھی تین سو سال بعد۔کبھی چار سو سال کےبعد اور کبھی پانچ سو سال کے بعد اور اس طرح ظاہر کر دیا کہ خدا تعالیٰ اُن سے محبت رکھتا ہے اور وہ نہیں چاہتا کہ ان کے ارادے رائیگاں جائیں لیکن اگر اس ساری آیت کو ساری قوم کی طرف منسوب کر دیا جائے تب بھی کوئی حرج نہیں کیونکہ اس صورت میں بھی وہی معنے کئے جائیں گے جن کو میں نے بیان کیا ہے یعنی اس صورت میں بھی ساری قوم کو اگر کوئی خوف ہو سکتا تھا تو وہ کفار کے اسلام پر غلبہ کا ہو سکتا تھا۔فردی طور پر تو کسی کو یہ خوف ہو سکتا ہے کہ میرا بیٹا نہ مر جائے۔کسی کو یہ خوف ہو سکتا ہے کہ مجھے تجارت میں نقصان نہ ہو جائے۔مگر قوم کا خوف تو ایسا ہی ہو سکتا ہے جو اپنے اندر قومی رنگ رکھتا ہو اور وہ خوف بھی پھر یہی ماننا پڑتا ہے کہ ایسا نہ ہو اسلام پر کفار غالب آجائیں۔سو قوم کا یہ خوف بھی اسلام کے ذریعہ ہی دور ہوا اور اسلا م کو ایسا زبردست غلبہ حاصل ہوا جس کی اور کہیں مثال نہیں ملتی۔خلفاء کی چھٹی علامت اللہ تعالیٰ نے یہ بتائی ہے کہ يَعْبُدُوْنَنِيْ۠ لَا يُشْرِكُوْنَ بِيْ شَيْـًٔا وہ خلفاء میری عبادت کریں گے اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گے۔یعنی اُن کے دلوں میں خدا تعالیٰ جرأت اور دلیری پیدا کردے گا اور خدا تعالیٰ کے مقابلہ میں کسی کا خوف اُن کے دل میں پیدا نہیں ہوگا۔وہ لوگوں کے ڈر سے کوئی کام نہیں کریں گے بلکہ اللہ تعالیٰ پر توکل رکھیں گے اور اُسی کی خوشنودی اور رضا کے لئے تمام کام کریں گے۔یہ معنے نہیں کہ وہ بُت پرستی نہیں کریں گے۔بُت پرستی تو عام مسلمان بھی نہیں کرتے کجا یہ کہ خلفاء کے متعلق یہ کہا جائے کہ وہ بُت پرستی نہیں کریں گے۔پس یہاں بُت پرستی کا ذکر نہیں بلکہ اس امر کا ذکر ہے کہ وہ بندوں سے ڈر کر کسی مقام سے اپنا قدم پیچھے نہیں ہٹائیں گے بلکہ جو کچھ کریں گے خدا تعالیٰ کے منشاء اور اس کی رضا کو پورا کرنے کے لئے کریں گے اور اس امر کی ذرا بھی پرواہ نہیں کریں گے کہ اس راہ میں انہیں کن بلائوں اور آفات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔دنیا میں بڑے سےبڑا دلیر آدمی بھی بعض دفعہ لوگوں کے ڈر سے ایسا پہلو اختیار کر لیتا ہے جس سے گو یہ مقصود نہیں ہوتا کہ وہ سچا ئی کو چھوڑ دے مگر دل میں یہ خواہش ضرور ہوتی ہے کہ میں ایسے رنگ میں کام کروں کہ کسی کو شکوہ پیدا نہ ہو۔مولوی غلام علی صاحب ایک کٹر وہابی ہوا کرتے تھے۔وہابیوں کا یہ فتویٰ تھا کہ ہندوستان میں جمعہ کی نماز ہو سکتی ہے لیکن حنفیوں کے نزدیک ہندوستان میں جمعہ کی نماز جائز نہیں تھی۔کیونکہ وہ کہتے تھے کہ جمعہ پڑھنا تب جائز ہو سکتا ہے جب مسلمان سلطان ہو جمعہ پڑھانے والا مسلمان قاضی ہو اور جہاں جمعہ پڑھا جائے وہ شہر