تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 594
شیعہ نہیں سُنی معلوم ہوتا ہے۔بادشاہ نے کہا تمہیں کس طرح معلوم ہو ا۔وہ کہنے لگا بس شکل سے ایسا ہی معلوم ہوتا ہے۔بادشاہ کہنے لگا یہ کوئی دلیل نہیں تم میرے سامنے اس کا امتحان لو۔چنانچہ وزیر نے ان کے سامنے حضرت علی ؓ کی بڑے زور سے تعریف شروع کردی۔وہ بزرگ بھی حضرت علی ؓ کی تعریف کرنے لگ گئے۔بادشاہ نے یہ دیکھ کر کہا کہ دیکھا تم جو کچھ کہتے تھے وہ غلط ثابت ہوا یا نہیں۔اگر یہ شیعہ نہ ہوتا تو کیا حضرت علیؓ کی ایسی ہی تعریف کرتا۔وزیر کہنے لگا بادشاہ سلامت آپ خواہ کچھ کہیں مجھے یہ سُنّی ہی معلوم ہوتا ہے۔بادشاہ نے کہا اچھا امتحان کے لئے پھر کوئی اور بات کرو۔چنانچہ وزیر کہنے لگا کہو بر ہر سہ لعنت یعنی ابوبکرؓ،عمرؓ اور عثمانؓ پر(نعوذ باللہ ) لعنت۔وہ بھی کہنے لگا بر ہرسہ لعنت۔بادشاہ نے کہا اب تو یہ یقینی طور پر شیعہ ثابت ہو گیا ہے۔وہ کہنے لگا بظاہر تو ایسا ہی معلوم ہوتا ہے مگر میرا دل مطمئن نہیں۔آخر وزیر انہیں الگ لے گیا اور کہا سچ سچ بتائو تمہارا مذہب کیا ہے ؟ اُس نے کہا میں سُنّی ہوں۔اُس نے کہا پھر تم نے بر ہرسہ لعنت کیوں کہا تھا۔وہ بزرگ کہنے لگے تمہاری ان الفاظ سے تو یہ مراد تھی کہ ابوبکر ؓ۔عمر ؓ اور عثمان ؓ پر لعنت ہو۔مگر میری مراد یہ تھی کہ آپ دونوں اور مجھ پر لعنت ہو۔آپ لوگوں پر اس لئے کہ آپ بزرگوں پر لعنت کرتے ہیں اور مجھ پر اس لئے کہ مجھے اپنی بدبختی سے تم جیسے لوگوں کے پاس آنا پڑا۔غرض انسان کئی طریق پر وقت گذار لیتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اس طرح اُس نے کسی گناہ کا ارتکاب نہیں کیا۔مگر فرمایا يَعْبُدُوْنَنِيْ۠ لَا يُشْرِكُوْنَ بِيْ شَيْـًٔا۔خلفاء انتہائی طورپر دلیر ہوںگے اور خوف وہراس اُن کے قریب بھی نہیں پھٹکے گا۔وہ جو کچھ کریں گے خدا کی رضا کے لئے کریں گے۔کسی انسان سے ڈر کر اُن سے کوئی فعل صادر نہیں ہوگا۔یہ علامت بھی خلفاء راشدین میں بتمام و کمال پائی جاتی ہے۔چنانچہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ مقرر ہوئے تو اس وقت سارا عرب مرتد ہوگیا۔صرف دو جگہ نماز باجماعت ہوتی تھی۔باقی تمام مقامات میں فتنہ اُٹھ کھڑا ہوا اور سوائے مکہ اور مدینہ اور ایک چھوٹے سے قصبہ کے تمام ملک نے زکوٰۃ دینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ فرمایا تھا کہ خُذْ مِنْ اَمْوَالِھِمْ صَدَقَۃً ( التوبۃ :۱۰۳) تُو ان کے مالوں سے صدقہ لے۔کسی اور کو یہ اختیار نہیں کہ ہم سے زکوٰۃ وصول کرے۔غرض سارا عرب مرتد ہوگیا اور وہ لڑائی کے لئے چل پڑا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں گو اسلام کمزور تھا مگر لوگ متفرق طور پر حملہ کرتے تھے کبھی ایک گروہ نے حملہ کر دیا اور کبھی دوسرے نے۔جب غزوۂ احزاب کے موقعہ پر کفار کے لشکر نے اجتماعی رنگ میں مسلمانوں پر حملہ کیا تو اُس وقت تک اسلام ایک حد تک طاقت پکڑ چکاتھا گو ابھی اتنی زیادہ طاقت حاصل نہیں ہوئی تھی کہ انہیں آئندہ کے لئے کسی حملہ کا ڈر ہی نہ رہتا۔اس کے بعد جب