تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 558 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 558

انہی لوگوںمیں عمر و بن العاص ؓ بھی تھے۔فرض کرو یہ سب لوگ مارے جاتے اور اُن کے ساتھ وہی سلوک ہوتا جو ہندہ نے حضرت حمزہ ؓ کی لاش کے ساتھ کیا تھا تو بعد میں اُن کے ذریعہ سے جو نشان ظاہر ہوئے وہ کس طرح ظاہر ہوتے۔اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتا دیا کہ آپ کو مستقبل کا علم نہیں لیکن ہمیں مستقبل کا علم ہے اور ہم جانتے ہیں کہ جن لوگوںپر آپ کو اس وقت غصہ آرہا ہے ان میں سے بعض مستقبل میں اسلام کے لئے بڑی بھاری قربانیاں کرنےوالے ہوںگے۔اس لئے ہم ان کو زندہ رکھیں گے اور ان سے کام لیں گے۔اور آپ کے انتقام کے جذبہ کو پورا نہیں ہونے دیں گے۔چنانچہ حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ کی مثال ہی لےلو وہ ابوجہل کے بیٹے تھے۔اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو رؤیا میں دکھا یا گیا تھا کہ ایک فرشتہ انگوروں کا ایک خوشہ آپ کے پاس لایا ہے۔آپ نے خواب میں ہی دریافت فرمایا کہ یہ خوشہ کس کے لئے لائے ہو۔فرشتہ نے جواب دیا کہ میں یہ خوشہ ابو جہل کے لئے لایا ہوں۔آپ گھبرا گئے اور اُسی گھبراہٹ میںآپ کی آنکھ کھل گئی(المستدرک للحاکم کتاب معرفۃ الصحابۃ باب رؤیا رسول اللہ فی اسلام عکرمۃ)۔کیا خدا تعالیٰ کا رسول اور اس کا دشمن ایک ہی صف میں کھڑے ہیں کہ اُس کے لئے بھی جنت سے انگوروںکا خوشہ آرہاہے اور اس کے لئے بھی جنت سے انگوروں کا خوشہ آرہا ہے۔جب بعد میںعکرمہ ؓ مسلمان ہوئے تو آپ نے فرمایا اب میری خواب کی تعبیر مجھ پر کھل گئی ہے۔ابوجہل سے مراد اس کا بیٹا عکرمہ تھا جو اسلام لایا۔پھر عکرمہ اپنے اسلام میں اتنے ترقی کر گئے کہ جب بعد میں عیسائیوں سے جنگیں ہوئیںتو ایک موقعہ پر صحابہؓ نے فیصلہ کیا کہ یک دم دشمن کے قلب پر حملہ کیا جائے تاکہ وہ آئندہ مسلمانوں پر حملہ کرنے کی جرأت نہ کر سکے۔جو لوگ اس غرض کے لئے چُنے گئے اُن میں عکرمہ ؓ بھی تھے۔تاریخ میں آتاہے کہ جس طرح عقاب چڑیا پر جھپٹا مارتا ہے اسی طرح یہ لوگ دشمن پر حملہ کر کے قلب ِ لشکر میںپہنچ گئے۔یہ لوگ صرف ساٹھ تھے اور دشمن کا لشکر ساٹھ ہزار کی تعدا د میں تھااور کمانڈر انچیف سے روم کے بادشاہ نے یہ وعدہ کیا تھا کہ اگر تم نے مسلمانوں پر فتح پائی تو میں اپنی آدھی سلطنت تمہیںدے دوںگا اور اپنی بیٹی کی تم سے شادی کر دوںگا مگر یہ ساٹھ آدمی صفوںکو چیرتے اور دشمنوںکو قتل کرتے ہوئے عین قلب ِ لشکر میں پہنچ گئے۔اور انہوں نے جرنیل کو مار ڈالا اور عیسائی فوج مرعوب ہو کر بھاگ گئی۔مگر چونکہ یہ لوگ ساٹھ ہزار تلواروں میں سے گذر ے تھے اس لئے زخمی ہو کر گِر گئے۔جب جنگ کے بعد مسلمان اُن لوگوں کی خبر لینے کے لئے گئے تو انہوں نے اُن میں سے چند زخمیوں کو میدان میں پڑے پایا۔وہ گرم ملک تھا اور شائد وقت بھی گرمی کا تھا۔پھر ہزاروں آدمیوں میں سے راستہ نکالنے اور تلواریں مارتے چلے جانے کی وجہ سے ان کے جسموں سے پسینہ بھی کثرت سے نکلا جس کی وجہ سے انہیں بڑی شدت سے