تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 559 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 559

پیاس لگی ہوئی تھی۔زبانیں اُن کی باہر نکلی ہوئی تھیں اور وہ پانی کے لئے تڑپ رہے تھے ایک مسلمان سپاہی نے عکرمہ ؓ کو پہچان لیا اور پانی کی چھاگل لے کر اُن کے پاس گیا اور کہا۔آپ کو پیاس لگی ہوئی ہے پانی پی لیں۔عکرمہ ؓ نے دوسری طرف نگاہ ڈالی تو ایک اور مسلمان بھی پیاس کی وجہ سے تڑپ رہا تھا۔انہوں نے پانی کا کوئی قطرہ پیئے بغیر اُس سپاہی سے کہا۔وہ دیکھو ایک اور پرانا مسلمان پیاس کی وجہ سے تڑپ رہا ہے وہ مجھ سے زیادہ مستحق ہے تم اس کے پاس جائو اور اُسے پانی پلائو۔چنانچہ وہ مسلمان سپاہی دوسرے زخمی مسلمان کے پاس گیا اور اُس سے پانی پینے کے لئے کہا۔مگر اُس نے بھی انکار کر دیا اور کہا کہ پہلے میرے پہلو میں جو مسلمان ہے اُس کے پاس جائو اور اس کو پانی پلائو۔کیونکہ وہ مجھ سے زیادہ مستحق ہے۔چنانچہ وہ اگلے مسلمان کے پاس گیا لیکن اُس نے بھی انکار کر دیا اور اگلے مسلمان کو پانی پلانے کے لئے کہا۔غرض وہ مسلمان سپاہی چھاگل لے کر اُن میں سے ہر ایک کے پاس گیا لیکن ان میں سے ہر ایک نے دوسرے کو پانی پلانے کے لئے کہا۔جب وہ آخری مسلمان کے پاس پہنچا تو وہ فوت ہو چکا تھا۔پھر وہ عکرمہ ؓ کی طرف لوٹا تو اُن کی جان بھی نکل چکی تھی ( الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب باب عکرمۃ۔الکامل فی التاریخ لابن اثیرذکر وقعۃ الیرموک۔محاضرات الامم الاسلامیۃ) اب دیکھو یہ کتنی بڑی قربانی تھی جو عکرمہ ؓ نے کی۔اور یہ دیکھنے والوں کے لئے کتنا بڑا نشان تھا۔جب مسلمانوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مُنہ سے یہ سنا ہو گا کہ میں نے رؤیا میں دیکھا کہ ایک فرشتہ انگوروں کا ایک خوشہ لایا ہے اور جب میں نے دریافت کیا کہ یہ خوشہ کس کے لئے ہے تو اُس نے جواب دیا ابو جہل کے لئے جس کی وجہ سے میں گھبرا گیا۔اور اسی گھبراہٹ میں میری آنکھ کھل گئی۔اور میں نے کہا کیا خدا تعالیٰ کا دشمن اور اُس کا رسول برابر ہو سکتے ہیں۔اور پھر بعد میں انہوں نے اپنی آنکھوں سے یہ واقعہ دیکھا ہو گا کہ کس طرح عکرمہ ؓ نے خطرناک حالات میں اپنی جان کی قربانی پیش کی۔وہ پانی کے ایک قطرہ کے لئے تڑپتے ہوئے فوت ہو گئے لیکن پانی کو اس لئے نہ چھوا کہ جب تک میرے دوسرے مسلمان بھائی سیر نہ ہو جائیں میں پانی نہیں پیٔوں گا۔تو اُن کا ایمان کس طرح بڑھا ہوگا۔انہوں نے کہا ہوگا کہ اوّل تو عکرمہ ؓ کا اسلام لانا ہی ناممکن تھا۔اور پھر اُن کا اسلام لانے کے بعد اتنا بڑا اخلاص پیدا کرنا اور اتنی بڑی قربانی کرنا ناممکن تھا مگر خدا تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو رؤیا دکھا یا تھا اس نے وہ پورا کرکے دکھادیا۔اس رؤیا کے یہی معنے تھے کہ انگور کے اندر چونکہ پانی ہوتا ہے اس لئے وہ پانی کی پیا س میں مریں گے اور اللہ تعالیٰ کے فرشتے انہیں جنت کے انگوروں کے خوشے چوسا ئیں گے۔پس یہ واقعہ یقیناً آیات مبینات میں سے تھا جسے دیکھ کر مسلمانوں کے ایمان خدا تعالیٰ پر اور اسلام کی سچائی پر اور زیادہ پختہ ہوگئے۔اس قسم کے نشانات کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ