تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 557 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 557

جسے چاہتا ہے سیدھے راستے کی طرف ہدایت دے دیتا ہے۔مذہب چونکہ زیادہ تر ایسی باتوں کی طرف اشارہ کرتا ہے جو غیب میں ہوتی ہیں اس لئے وہی مذہب انسان کو فائدہ پہنچا سکتا ہے اور وہی مذہب انسان کو ہدایت دے سکتا ہے جس میں آیات بینات بھی ہوں۔یعنی ایسے نشانات ہوں جو غیب کو کھول کر رکھ دیں۔اور چھپی ہوئی باتوں کو ظاہر کر دیں۔اگر غیب غیب ہی رہے اور چھپی ہوئی باتیں ظاہر نہ ہوں تو پھر مذہب پر ایمان لانے کا کوئی محرک نہیں ہو سکتا۔کیونکہ مذہب ظاہر ہوتا یا نہ ہوتا جو چیز غیب میں ہے وہ غیب ہی میں رہتی۔مثلاً اللہ تعالیٰ کی ہستی غیب میں ہے۔اگر مذہب نہ ہوتا تب بھی اللہ تعالیٰ کی ہستی غیب میں ہی رہتی۔مذہب کا فائدہ تو تبھی ہو سکتا ہے جبکہ وہ اللہ تعالیٰ کی ہستی کو معجزات اور دلائل کے ذریعہ سے غیب سے نکال کر ہمارے سامنے رکھ دے۔اگروہ ایسا کر دے تب تو بیشک مذہب ہے لیکن اگر وہ ایسا نہ کرے تو وہ ایک بے فائدہ چیز ہے کہ جس کے آنے سے ہمیں کوئی فائدہ نہ پہنچا۔اور جس کے نہ آنے سے ہم کوکوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا تھا۔اب ہم دیکھتے ہیںکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے خدا تعالیٰ نے اس وعدہ کو کس طرح پورا کیا ؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے شدید دشمنوں میں سے ایک ہندہ تھی۔جو اتنی سخت مخالف تھی کہ جنگ اُحد کے موقعہ پر لوگوں کو شعر پڑھ پڑھ کر بھڑکاتی تھی کہ جائو اور اسلامی لشکر پر حملہ کرو۔اور جب ایک خطر ناک موقعہ مسلمانوں کے لئے آیا تو اُس نے کہا کہ جو شخص حضرت حمزہ ؓ کا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا تھے کلیجہ نکال کر میرے پاس لے آئےگا اور اسی طرح ان کا ناک اور ان کے کان کاٹ کر لے آئےگا میں اُسے انعام دوںگی۔چنانچہ حضرت حمزہ ؓ کی نعش کے ساتھ ایسا ہی سلوک کیا گیا۔جنگ کے بعد جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی کہ آپ کے چچا کی ایسی بے حرمتی کی گئی ہے تو طبعی طور پر آپ کو تکلیف ہوئی اور آپ نے فرمایا کہ جب دشمنوں نے اس قسم کے ظالمانہ سلوک کی ابتداء کر دی ہے تو میں بھی ان کے ساتھ ایسا ہی سلوک کروںگا۔(السیرۃ النبویۃ لابن ہشام، غزوۃ احد)تب اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ پر وحی نازل ہوئی کہ ان کے اس ظالمانہ سلوک کے باوجود آپ کو ایسا کوئی اقدام نہیں کرنا چاہیے اور عفو اور درگذر سے کام لینا چاہیے۔(اٰل عمران ۱۳ع ) اب دیکھو اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد کتنا حکمت والا تھا۔ہندہ بے شک لڑائی کرنے والوںمیں سے نہیں تھی وہ اُن پیچھے رہنے والی عورتوںمیں سے تھی جو مردوں کو لڑائی کے لئے اکساتی تھیں۔مگر اسلام پر حملہ آور لوگوں میں وہ بھی تھے جو بعد میںمسلمان ہو ئے اور اسلامی لڑائیوں میں مارے گئے یا مارے جانے کے قریب پہنچے اگر ان کے ساتھ بھی وہی سلوک کیا جاتا جو ہندہ نے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی لاش کے ساتھ کیا تھا تو بعد میں جو اللہ تعالیٰ کے نشانات ظاہر ہوئے وہ کیسے ظاہر ہوتے مثلاً اُنہی لوگوںمیں ابوجہل کا بیٹا عکرمہ ؓ بھی تھا۔اُنہی لوگوں میںخالد بن ولید ؓ بھی تھے۔