تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 543 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 543

ہیں جن کو ذبح نہیں کیا جا سکتا۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَفِیْ اَمْوَالِھِمْ حَقٌّ لِّلسَّائِلِ وَالْمَحْرُوْمِ لوگوں کے اموال میں اُن کا بھی حق ہے جو مانگ سکتے ہیں اور اُن کا بھی حق ہے جو محروم ہیں اور بولنے کی طاقت اپنے اندر نہیں رکھتے۔اس حکم کے ماتحت بے زبان جانوروں کی غذا کا خیال رکھنا اُن کی طاقت کے مطابق اُن سے کام لینا اور جن جانوروں سے کوئی کام نہ لیا جائے ان کو بھی کھانا دینا پرندوں وغیرہ کو دانہ ڈالنا۔بے زبان جانوروں کی سردی گرمی اور اُن کے شہوانی جذبات اور اُن کے بچوں کا خیال رکھنا بھی مومن کے فرائض میں شامل ہے۔پانچویں ہدایت جو اسلام نے اس سلسلہ میں دی ہے اور تمام لوگوں سے تعلق رکھتی ہے۔اُن لوگوں سے بھی جو تجارت اور صنعت و حرفت کرنے والے ہیں اور اُن سے بھی جن کے پاس کسی اور ذریعہ سے مال آتا ہے وہ یہ ہے کہتَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى ( المائدۃ:۳) یعنی جو شخص بھی کوئی کام کرتا ہو اُس کے لئے ضروری ہے کہ وہ نیکی اور تقویٰ کے ساتھ ایک دوسرے کی مدد کرے پس وہی تجارت اور وہی صنعت اسلامی نقطۂ نگاہ سے صحیح ہو سکتی ہے جو بِرّ اور تقویٰ پر دوسروں سے تعاون کرتی ہو۔تاجر اور صناع یہ دو گروہ ایسے ہیں کہ اُن کا تعاون بہت وسیع ہو سکتا ہے۔مثلاً صناع اگر ایسی صورت میں اپنی صنعت و حرفت کو فروغ دیں کہ اُن کی صنعت سے مذہب کو شوکت حاصل ہونے لگ جائے۔دین کی شہرت پھیلنے لگ جائے اور سلسلہ کی مضبوطی پہلے سے بڑھ جائے تو یقیناً اُن کی صنعت دین کا ایک حصہ سمجھی جائےگی۔یا اگر کوئی شخص دو کام کر سکتا ہو۔اور اُن دونوں میں سے ایک کام ایسا ہو جس سے دین کی مدد ہوتی ہو اور دوسرا کام ایسا ہو جس سے دین کی مدد نہ ہوتی ہو تو اسے بہر حال وہ کام کرنا چاہیے جس سے دین کی مدد ہوتی ہوخواہ اس میں تھوڑے بہت نفع کا فرق ہی کیوں نہ ہو۔اگر ایسا شخص وہ کام اختیار کرتا ہے جس سے دین کی مدد ہوتی ہو تو وہ یقیناً ثواب کا مستحق ہوگا اور اُس کا دنیا کمانا محض دنیا نہیں بلکہ دین کا ایک حصہ ہو گا۔اسی طرح تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى میں جہاں یہ بات داخل ہے کہ ایسی تجارتیں اور ایسی صنعتیں اختیار کی جائیں جو دین کی تقویت کا موجب ہوں وہاں آپس میں ایک دوسرے سے تعاون کرنےکا بھی اس آیت میں حکم پایا جاتا ہے۔آخر ایک شخص کی تجارت کیوں چل نکلتی ہے اور دوسرے شخص کی تجارت کیوں رہ جاتی ہے۔اسی لئے کہ ایک شخص کو تجارت میں کامیابی حاصل کرنے کے گُر معلوم ہوتے ہیں اور دوسرا شخص تجارت کے اصول سے ناواقف ہوتا ہے ایک شخص جانتا ہے کہ سودا کہاں سے سستا ملتا ہے۔سودا کس طرح فروخت کرنا چاہیے۔کس منڈی میں بیچنے سے زیادہ نفع حاصل ہوتا ہے اور کس منڈی میں بیچنے سے کم نفع حاصل ہوتا ہے۔مگر دوسرا شخص ان باتوں کو نہیں جانتا۔پس اگر تاجر اپنی تجارت کے ساتھ ساتھ کسی اور آدمی کو بھی تجارت کا کام سکھا دیں اور اُسے بھی تجارت کے رازوں سے واقف کر دیں تو یہ بھی ایک