تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 542
حالتیں آتی ہیں۔اسلام یہ تعلیم دیتا ہے کہ مومن کو چاہیے کہ وہ ان دونوں حالتوں میں خدا تعالیٰ کے راستہ میں اپنے اموال خرچ کرتارہے مگر ضراء کے یہ معنے نہیں کہ انسان کے پاس کچھ نہ ہو تب بھی وہ خرچ کرے بلکہ ضّراء کے لفظ کا استعمال اس غرض کے لئے کیا گیا ہے کہ بڑے بڑے تاجروں پر بھی بعض دفعہ تنگی کے اوقات آجاتے ہیں۔دس بیس لاکھ کا کارخانہ ہوتا ہے مگر کسی وجہ سے مال کا فروخت ہونا رُک جاتا ہے۔اُس وقت لوگ کہتے ہیں ہم پر بڑی مصیبت آگئی ہے۔اب ہم کیا کریں پہلی سی حالت ہماری نہیں رہی ہم بڑی تنگی میں مبتلا ہو گئے ہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جب ایسی حالتیںآئیںاُس وقت بھی تمہارا فرض ہے کہ تم اپنا مال خرچ کروکیونکہ اگر یہ فرض بھی کر لیا جائے کہ دس لاکھ روپیہ کے مالک کارخانہ دار کا کام خراب ہو گیا ہے تب بھی چار پانچ لاکھ روپیہ اس کے گھر میں ضرور موجود ہوگا۔پس اُسے سمجھ لینا چاہیے کہ اگر دین کے لئے وہ شخص قربانی کر رہا ہے جس کی آمد پانچ دس یا پندرہ بیس روپے ہے تواس کے لئے دین کی خاطر قربانی کرنے میں کونسی مشکل درپیش ہے جبکہ اس کے قبضہ میںدیوالیہ ہونے کے باوجود چار پانچ لاکھ روپیہ کا مال ہے پس اس آیت کے صرف یہ معنے نہیں کہ مومن غربت اور امارت دونوں حالتوں میں خرچ کرتے ہیں بلکہ یہ مطلب بھی ہے کہ امیر پر بھی بعض دفعہ تنگی کی گھڑیاں آجاتی ہیں۔پس ان تنگی کی گھڑیوں کے متعلق اسلام یہ حکم دیتاہے کہ تم اُس حالت میں بھی غرباء و مساکین پرا پنا روپیہ خرچ کیا کرو۔اور یہ نہ کہا کرو کہ ہم کس طرح خرچ کریں ہماری آج کل بِکری کم ہے جب وہ شخص جس کے پاس تمہارے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں دین کی خاطر قربانی کرتا رہتا ہے تو تمہارے پاس تو پھر بھی لاکھ دو لاکھ یا چار لاکھ روپے موجود ہیں تمہارے لئے ہچکچاہٹ کی کوئی وجہ نہیں۔اس بارہ میں اللہ تعالیٰ نے ایک اور مقام پر بھی توجہ دلائی ہے فرماتا ہے۔وَفِیْ اَمْوَالِھِمْ حَقٌّ لِّلسَّآئِلِ وَالْمَحْرُوْمِ ( الذاریات :۲۰) یعنی مومنوں کے اموال میں اُن کا بھی حق ہے جو سوال کرتے ہیں اور اُن کا بھی حق ہے جو سوال نہیں کرتے۔سوال نہ کرنا کئی طرح سے ہوتا ہے مثلاً ایک شخص گونگا ہوتا ہے اور وہ بول ہی نہیں سکتا۔یاجانور ہیں کہ جب وہ کسی مصیبت میں مبتلا ہوں تو دوسرے سے کوئی سوال نہیں کر سکتے۔دنیا میں عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ جب کوئی جانور بوڑھا ہو کر ناکارہ ہو جاتا ہے تو لوگ اُسے مار کر اپنے گھر سے نکال دیتے ہیں۔اور کوئی اس کا پر سانِ حال نہیں رہتا ایسے جانوروں کو پالنا ملک کا کام ہوتا ہے یا پھر حکومت کا فرض ہوتا ہے کہ وہ مالک کو مجبور کرے کہ وہ اُس جانور کواپنے گھر میں رکھے۔یہ کوئی انصاف نہیں کہ جب تک کسی جانور سے کمائی کی جاسکتی ہو اُس وقت تک تو اُسے کھلایا پلایا جائے اور جب وہ بوڑھا ہو کر کام کے قابل نہ رہے تو اُسے مار کر اپنے گھر سے نکال دیا جائے۔گائے اور بیل تو ایسے جانور ہیں جن کے بوڑھا یا ناکارہ ہونے پر لوگ اُن کو ذبح کر لیتے ہیں مگر گھوڑا اور گدھا وغیرہ ایسے جانور