تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 537 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 537

اللّٰهِ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ ( التوبۃ:۳۴) یعنی وہ لوگ جو سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے راستہ میں اُسے خرچ نہیں کرتے ایسے لوگوں کو تو درد ناک عذاب کی خبر دیدے۔اس آیت سے ظاہر ہے کہ جو شخص روپیہ کماتا اور اُسے غلّق میں بند کر دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی راہ میں اسے خرچ کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔ایسا شخص اسلامی نقطہ نگاہ سے مومن نہیں کہلا سکتا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مومن بھی اپنی تجارتوں کو بڑھاتا ہے اور اگر وہ اپنی تجارت کو ترقی نہیں دےگا تو اس کے پاس روپیہ کہاں سے آئے گا۔روپیہ کمانے کے لئے ضروری ہے کہ تجارت اور صنعت کو فروغ دیا جائے لیکن اگر کسی تجارت یا صنعت کا یہ نتیجہ نکلے کہ انسان روپیہ جمع کرنا شروع کر دے اوربخل کا مرض اس میں اس قدر ترقی کر جائے کہ خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنا اُس پر گراں گذرنے لگے تو اسلامی تعلیم کے لحاظ سے وہ تجارت اور صنعت بالکل ناجائز ہوگی۔وہی تجارت اور وہی صنعت جائز ہے جس کے نتیجہ میں بے کار روپیہ جمع نہ کیا جائے۔ہاں وہ روپیہ جس کا رکھنا کسی خاص غرض کے لئے ضروری ہو مثلاً کام کے نقصان کو پورا کرنے کے لئے یا مکان وغیرہ بنانے کے لئے یا روزانہ ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے یا بچوں کی شادی بیاہ کے لئے۔ایسا روپیہ ہر شخص اپنے پاس رکھ سکتا ہے۔یا مثلاً ایک شخص جس نے کارخانہ کھولا ہوا ہو اُسے کارخانہ کے لئے کبھی لوہا خریدنا پڑتا ہے کبھی کوئلہ خریدنا پڑتا ہے کبھی مٹی کا تیل خریدنا پڑتا ہےکبھی آٹے یا سوجی کے لئے گیہوں خریدنا پڑتا ہے۔یا اگر بوٹ کا کارخانہ اس نے جاری کیا ہوا ہے تو اُسے مشینیں خریدنی پڑتی ہیں کیل خریدنے پڑتے ہیں۔چمڑا خریدنا پڑتا ہے۔اور پھر بعض دفعہ کارخانوں میں کام کرتے کرتے مشینوں کے پرزے ٹوٹ جاتے ہیں۔بعض دفعہ کوئی مشین ہی ناکارہ ہو جاتی ہے۔اور اس وقت ضرورت ہوتی ہے کہ اور مشین یا مشین کے اور پرزے خریدے جائیں۔ان تمام کاموں کے لئے جب تک روپیہ پاس نہ ہو کوئی کارخانہ دار اپنے کارخانے کو چلا نہیں سکتا۔اسلام کے نزدیک اس قسم کے کاموں کو چلانے کے لئے جتنے روپے کی ضرورت ہو وہ انسان اپنے پاس رکھ سکتا ہے۔یا مثلاًایک شخص مکان بنانے کے لئے روپیہ جمع کرنا شروع کر دیتا ہے جس کے لئے اُس کی روزانہ آمدنی کافی نہیں ہو سکتی تو یہ اسلام کے خلاف نہیں ہوگا۔اور نہ یہ اس رنگ میں روپیہ کا جمع کرنا کہلا ئےگا جس رنگ میں روپیہ کا جمع کرنا اسلام نے ناجائز قرار دیا ہے۔یہ صرف بعد میں آنے والے ضروری اخراجات کو مہیا کرنے کی ایک جائز صورت ہوگی یا دوسرے الفاظ میں یوں کہہ لو کہ بعد میں اُس نے جو کچھ خرچ کرنا ہے اس کے لئے یہ اس کی تیاری ہوگی۔پس چونکہ یہ روپیہ محض جمع رکھنے کے لئے نہیں بلکہ کسی دوسرے وقت خرچ کرنے کے لئے ہے اس لئے اس قسم کی ضروریا ت کے لئے روپیہ پس انداز کرنااسلام کی رُو سے بالکل جائزہے۔ہاں جن لوگوں کے پاس ضرورت سے زائد روپیہ ہوتا ہے اور