تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 536 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 536

پنے نفس کو احکام الٰہی کے تابع کرنے کی کوشش کرو۔اور اپنے قلب کو ہر قسم کی کدورتوں اور میل کچیل سے صاف کرکے ایک ایسا مصفیٰ اور روشن آئینہ بنائو جس میں خدا تعالیٰ کا چہرہ منعکس ہو جائے اور خدا تعالیٰ کی صفات کا ظہور تمہارے ذریعہ سے ہونے لگے اور اگر تم ایسا کرتے ہو تو بیشک تم اچھے لوہار بنو تاجر بنو اچھے صناع بنو اچھے کارخانہ دار بنو اور خوب مال کمائو ہماری طرف سے اس میں کسی قسم کی روک نہیں کیونکہ تمہارے یہ کام ہمارے دین اور ہمارے ذکر میں حائل نہیںہیں۔پس پہلی شرط جس کو اسلام پیش کرتا ہے وہ وہی ہے جس کا اس آیت میں ذکر آتا ہے کہ رِجَالٌ١ۙ لَّا تُلْهِيْهِمْ تِجَارَةٌ وَّ لَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ۔مومن بے شک تجارت بھی کرتے ہیں۔خریدو فروخت بھی کرتے ہیں صنعت و حرفت بھی کرتے ہیں مگر اصل کو ہمیشہ مدنظر رکھتے ہیں کہ یہ چیزیں خدا تعالیٰ کے ذکر اوراس کے دین کی مدد میں روک بن کر حائل نہ ہو جائیں۔پس ایک مومن اور غیر مومن میںیہ فرق ہے کہ مومن بھی تجارت کرتا ہے اور غیر مومن بھی تجارت کرتا ہے مومن بھی صنعت وحرفت اختیار کرتا ہے اور غیرمومن بھی صنعت و حرفت اختیار کرتا ہے مگر غیرمومن جب ان کاموں میں مشغول ہوتا ہے تو خدا تعالیٰ کی طرف سے اس کی توجہ بالکل ہٹ جاتی ہے لیکن جب ایک مومن یہ کام اختیار کرتا ہے تو یہ چیزیں خدا تعالیٰ کے ذکر میں روک نہیں بنتیں ان مشاغل کے باوجود اس کی ذکر الٰہی کی عادت پھر بھی قائم رہتی ہے۔نمازیں پھر بھی باقاعدگی سے ادا کرتاہے زکوٰۃ پھر بھی بالشرح ادا کرتاہے۔روزے پھر بھی پوری احتیاط سے رکھتا ہے۔حج پھر بھی استطاعت پر کرتا ہے گویا اس کے دنیوی مشاغل دین کی خدمت کے راستہ میں روک نہیں بنتے۔اور چونکہ دین کا پہلو مضبوط رہتا ہے۔اس لئے اسلام کہتا ہے کہ ہمیں تمہارے دنیا کمانے پر کوئی اعتراض نہیں لیکن اگر مثلاً تبلیغ کا وقت آجائے اور یہ فیصلہ کیا جائے کہ جماعت کا ہر فرد تبلیغ کے لئے وقت دے اور اُس وقت کوئی شخص کہے کہ میں تبلیغ کے لئے کس طرح وقت دے سکتا ہوں۔میں اگر وقت دوں تومیری دوکان کا نقصان ہوتا ہے تو اسلام کہےگا یہ تجارت تمہارے لئے جائز نہیں۔یا اگر کوئی کارخانہ دار کہے کہ میں کس طرح تبلیغ کے لئے باہر جا سکتا ہوں۔میں اگر باہر جائوں تو کارخانے کا تمام کام درہم برہم ہوجائےگا تو اسلام کہے گا ایسا کارخانہ تمہارے لئے جائز نہیں۔پس مومن وہی ہیں جو لَا تُلْهِيْهِمْ تِجَارَةٌ وَّ لَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ کے مصداق ہوتے ہیں یعنی تجارت اور بیع اُن کو اللہ تعالیٰ کے ذکر سے نہیں روکتی بلکہ جب بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے آواز بلند ہوتی ہے ایک مومن تاجر۔ایک مومن کا رخانہ دار ایک مومن صناع اپنی تجارت اور اپنے کارخانہ اور اپنی صنعت کو چھوڑ کر اس آواز کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔اور اللہ تعالیٰ کے احکام کو پورا کرنے کے لئے کھڑا ہو جاتا ہے۔دوسری شرط اسلام نے یہ بیان فرمائی ہے کہ وَ الَّذِيْنَ يَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَ الْفِضَّةَ وَ لَا يُنْفِقُوْنَهَا فِيْ سَبِيْلِ