تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 538 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 538

وہ اس روپیہ کو بند کرکے رکھ دیتے ہیں اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا۔اسلام کے نزدیک اگر ایک شخص دس لاکھ روپیہ سے ایک کارخانہ جاری کر دیتا ہے تو یہ بالکل جائز ہے لیکن اگر کوئی شخص دس ہزار روپیہ غلق میں بند کرکے رکھ دیتا ہے تو یہ ناجائز ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جب ایک شخص دس لاکھ روپیہ کسی کارخانے پر لگاتا ہے تو اسے کئی ہزار روپیہ مشینوں کے خریدنے پر صرف کرنا پڑتا ہے پھر ان مشینوں سے کام لینے والے مستریوں کی اُسے ضرورت ہوتی ہے۔فٹروں کی اُسے ضرورت ہوتی ہے۔مزدوروں کی اُسے ضرورت ہوتی ہے اور اس طرح سینکڑوں لوگوں کے لئے روزگار کی صورت پیدا ہو جاتی ہے۔اسی طرح جب کوئی کارخانہ جاری کیا جاتا ہے تو اس میں کچھ لوگوں کو افسر مقرر کرنا پڑتا ہے کچھ ماتحت ہوتے ہیں۔کچھ قلی ہوتے ہیں۔کچھ نگران ہوتے ہیں اس طرح دو دو سو چار چار سو پانچ پانچ سو بلکہ ہزار ہزار آدمیوں کے لئے روزگار کی صورت پیدا ہو جاتی ہے اور بڑے بڑے کارخانوں میں تو بعض دفعہ بیس بیس ہزار آدمی ایک وقت میں کام کر رہے ہوتے ہیں اس طرح اس کا روپیہ بند نہیں رہتا بلکہ بنی نوع انسان کے کام آتا رہتا ہے یا اگر کوئی شخص اپنے روپیہ سے تجارت کرتا ہے تب بھی وہ لوگوں کے کام آتا ہے لیکن اگر کوئی شخص دس ہزار روپیہ بند کرکے رکھ دیتا ہے تو چونکہ لوگ اس روپیہ سے فائدہ نہیں اُٹھا سکتے اس لئے اسلام کے نزدیک اس قسم کا روپیہ جمع رکھنا ناجائز ہے۔تیسری چیز جس پر خصوصیت سے اسلام نے زور دیا ہے اور جس کی طرف قرآن کریم میں بارہا توجہ دلائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ روپیہ بیشک کمائو مگر جو کچھ کمائو اس پر زکوٰۃ ادا کرو۔اسلام نے بیشک روپیہ کو بند رکھنا ناجائز قرار دیا ہے مگر روپیہ کمانا منع نہیں کیا۔پس فرماتا ہے اگر تم روپیہ کماتے ہو اور کچھ روپیہ اپنی ضروریات کے لئے عارضی طور پر جمع کر لیتے ہو جس پر ایک سال گذرجاتا ہے تو اس پر زکوٰۃ ادا کرو۔اگر کوئی شخص باقاعدگی سے زکوٰۃ ادا کرتا ہے تو یہ اس بات کا ثبوت ہوتا ہے کہ وہ دنیا کو دین کی خاطر کماتا ہے لیکن اگر کوئی شخص زکوٰۃ نہیں دیتا تو یہ اس بات کا ثبوت ہوتا ہے کہ وہ دنیا محض دنیا کی خاطر کما رہا ہے۔خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنےکا شوق اس کے دل میں نہیں۔اگر واقعہ میں اس کے دل میں خدا تعالیٰ کے قرب اور اس کی محبت کو جذب کرنےکااحساس ہوتا اگر دنیا کو وہ دین کی خاطر کما رہا ہوتا تو اس کا فرض تھا کہ وہ اپنے مال میں سے خدا تعالیٰ کا حق ادا کرتا اور پوری دیانت داری کے ساتھ ادا کرتا لیکن جب وہ زکوٰۃادا نہیں کرتا تو یہ اس بات کا ثبوت ہوتا ہے کہ وہ شیطان کا تابع ہے خدا تعالیٰ کے احکام کا تابع نہیں۔زکوٰۃ کے معاملہ میں میں دیکھتا ہوں کہ تاجروں میں بہت بڑی کوتا ہی پائی جاتی ہے۔پُرانے زمانہ میں تو غیر احمدی تاجروں نے بالکل اندھیر مچارکھا تھا۔حضرت خلیفہء اوّل رضی اللہ عنہ سنایا کرتے تھے کہ بھیرہ میں ایک بہت بڑا مسلمان تاجر تھا