تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 50 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 50

الْقِسْطُ۔اَلْقِسْطُ کے معنے ہیں اَلْعَدْلُ۔انصاف (اقرب) اَلْخَرْدَلُ۔اَلْخَرْدَلُ حَبٌّ صَغِیْرٌ جِدًّا اَسْوَدُ مُقرِّحٌ وَ مِنْہُ اَبْیَضُ یعنی باریک باریک دانے جو سیاہ ہوتے ہیںاور ان میں سے بعض سفید بھی ہوتے ہیں (اقرب) اردو میں ہم انہیںرائی کہتے ہیں۔تفسیر۔فرماتا ہے اے محمدؐ رسول اللہ تو ان سے کہہ دے میںتو کسی طاقت کامدعی نہیں کمزور انسان ہوں۔خد اکی وحی میں تمہارے عذاب کی خبر آئی ہے وہ تم کو سناتاہوں مگر تم بہرے ہوگئے ہو کتنابھی ڈرائوں سنتے نہیںلیکن جب عذاب آجائےگا تو اس وقت یہ لوگ کہیں گے کہ افسوس ہم تو ظالم تھے مگر کیا ان کایہ کہنا ان کو نفع دے سکے گا جب مقدرت ظلم کے وقت وہ ظلم کرتے رہے تو مقدرت ظلم کے چھینے جانے پر افسوس کرنے کا کیا فائدہ ؟ اور ہم اس فیصلہ کے دن انصاف کے ترازو رکھ دیں گے تاکہ جتنا جتنا کوئی مجرم ہے اس کو سزا مل جائے گی اور کسی پر تھوڑاسا بھی ظلم نہیں کیا جائےگا اور اگر کسی نے ایک رائی کے دانہ کے برابر بھی نیکی کی ہوگی تو اس کابدلہ اسکو مل جائےگا۔دیکھو یہ کتنی زبردست صداقت ہے جو قرآن کریم نے بیان کی ہے ابوجہل کتناشدیددشمن تھا مگر اس کے اندر کی نیکی کسی دوسرے شخص کو نظر نہیں آئی لیکن جب خدائی فیصلہ کا دن آیا تو ا س کے بیٹے کو مسلمان کردیا گیااور وہ اعلیٰ درجہ کا اسلامی جرنیل ثابت ہوا(الأصابۃ فی تمییز الصحابۃ عکرمۃ بن ابی جہل) اسی طرح ابوسفیان اسلام کاکتنا دشمن تھا ظاہرمیں دیکھنے والے یہی سمجھتے تھے کہ یہ اور اس کا خاندان ہمیشہ سزاپائیں گے مگر اس کے اندر بھی کوئی نیکی تھی جب وقت آیا تو اس کابیٹاآدھی مملکت اسلامیہ کا حاکم بنا اور قریباً سو سال تک اس کے خاندان نے تمام عالم اسلام پر حکومت کی اور اس کے بعد اندلس پر قریباً پانچ سو سال تک حکومت کی یہ جزا محض عالم الغیب خدا کی طرف سے ہی آسکتی ہے اگر انسان جزا دیتاتو ابو جہل اور اس کے خاندان کو اور ابو سفیان اور اس کے خاندان کو پیس ڈالتا۔اوپر کے مضمون کے علاوہ یہ آیت کہ وَ اِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ اَتَيْنَا بِهَا١ؕ وَ كَفٰى بِنَا حٰسِبِيْنَ جہنم کے غیرمنقطع ہونے کے عقیدہ کو بھی ردکر رہی ہے کیونکہ اس آیت میںاللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر کسی نے ایک رائی کے دانہ کے برابر بھی نیکی یابدی کی ہوگی تو اس کاحساب لیاجائے گا اب اگر بدی کی وجہ سے انسان جہنم میںچلاگیا اور ابدالاباد تک وہیںرہا تو نیکیو ں کا بدلہ کب پائےگا پس ضرور ی ہے کہ جہنم کاعذاب منقطع ہو اور نیکیوں کی جزا کے لئے اسے جنت میںداخل کیاجائے۔آریوںکا عقیدہ ہے کہ خدا تعالیٰ حساب کے وقت ہرروح کاایک گناہ باقی رکھ لیتا ہے چنانچہ پہلے تو وہ نیک روحوںکو نجات دے دیتاہے مگر پھر اس گناہ کی وجہ سے انہیں مختلف جونوں میںڈالتارہتاہے۔گویاان کے نزدیک