تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 51 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 51

خدا تعالیٰ انعام پہلے دیتاہے اور عذاب پیچھے تاکہ روح ابدی نجات نہ پا جائے مگر اسلام کہتاہے کہ خدا تعالیٰ گناہوں کی سزاپہلے دیتاہے اور پھرانسان کو نجات دیتاہے اور ہر عقلمند سمجھ سکتاہے کہ اسلام کی تعلیم ہی فطرت صحیحہ کے مطابق ہے گناہ کو چھپارکھنا اور پھرسلسلہ انعام کومنقطع کر کے عذاب میں مبتلاکر دینا ایسا ہی ہے جیسے بنیا کسی کو روپیہ قرض دے کر اس کا بہت ساحصہ تو وصول کرلیتا ہے مگر کچھ حصہ باقی رہنے دیتاہے تاکہ چند سالوں کے بعد پھرسود سمیت اس سے ایک بہت بڑی رقم وصول کر سکے اس قسم کی کینہ توزی کسی انسان میںبھی برداشت نہیں کی جاسکتی کجا یہ کہ اسے خدا تعالیٰ کی طر ف منسوب کیاجائے لیکن اسلام کہتاہے کہ جس شخص کے لئے سزامقدر ہوگی اسے پہلے سزادی جائے گی اور پھراس کی نیکیوں کاانعام دیاجائےگا اور یہ انعام غیرمنقطع ہوگااور اس میں کوئی رخنہ واقع نہیں ہواہو گا چنانچہ اللہ تعالیٰ ایک دوسرے مقام پر فرماتا ہے کہ جولوگ میری جنت میںداخل ہوجائیں گے وہ اس سے کبھی نکالے نہیں جائیںگے (الحجر:۴۹)پس اسلام کی تعلیم عقل اور فطرت کے مطابق ہے جبکہ آرین مذہب کی تعلیم خدا تعالیٰ پرظلم کاالزام عائد کرنے والی ہے۔وَ لَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ الْفُرْقَانَ وَ ضِيَآءً وَّ ذِكْرًا اور ہم نے موسیٰ ؑاورہارون ؑ کو امتیازی نشان بخشا تھا۔اور روشنی بخشی تھی۔اور متقیوں کے لئے ایک لِّلْمُتَّقِيْنَ۠ۙ۰۰۴۹الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَيْبِ وَ هُمْ مِّنَ یاد ہانی کی تعلیم بخشی تھی وہ( متقی) جو اپنے رب سے غیب میں (بھی) ڈرتے ہیں اور جو جزا سزا کے وقت السَّاعَةِ مُشْفِقُوْنَ۰۰۵۰ مقرر سے بھی ڈرتے رہتے ہیں۔حلّ لُغَات۔اَلْفُرْقَان۔اَلْفُرْقَانکے معنے ہیں کُلُّ مَا فُرِقَ بِہٖ بَیْنَ الْحَقِّ وَ الْبَاطِلِ ہر وہ معجزہ جس سے حق اور باطل کے درمیان امتیاز ہوجائے۔اَلنَّصْرُ مدد۔اَلْبُرْھَانُ دلیل۔اَلصُّبْحُ۔صبح (اقرب) تفسیر۔فرماتا ہے ہم نے موسیٰ ؑ اور ہارون ؑ کو ایک امتیاز اور روشنی دینے والی اور متقیوں کو خدا تعالیٰ کی یاد دلانے والی کتاب بخشی تھی ایسے متقی جو علیحدگی میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیںاور اپنے انجام سے ڈرتے رہتے ہیں۔