تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 49
وہ ایسی عادی ہو جاتی ہے کہ سمجھتی ہےاب ہماری یہ حالت بدلے گی نہیں فرماتا ہے کیا وہ یہ نہیںدیکھتے کہ گو محمدؐ رسول للہ کو پوری فتح حاصل نہیں ہوئی لیکن محمدؐ رسول اللہ کے مخالفوں کی حکومت کا پھیلاؤ کم ہونا شروع ہوگیاہے او ران کے اثر کے وہ حصے جن کو کنارے کہناچاہیے اب سمٹناشروع ہوگئے ہیں کیا اس بات کو دیکھنے کے باوجود وہ خیال کرتے ہیں کہ آخر وہی غالب آئیںگے۔یعنی جبکہ اسلام روز بروز ترقی کررہاہے ا ور و ہ کم ہورہے ہیں تو وہ کیونکر خیال کرسکتے ہیں کہ وہ غالب آجائیںگے۔قُلْ اِنَّمَاۤ اُنْذِرُكُمْ بِالْوَحْيِ١ۖٞ وَ لَا يَسْمَعُ الصُّمُّ الدُّعَآءَ تو ان سے کہہ دے کہ میں تو تم کو وحی کے ذریعہ سے ہوشیار کررہا ہوں اور( خوب سمجھتاہوں کہ) جب (روحانی) اِذَا مَا يُنْذَرُوْنَ۰۰۴۶وَ لَىِٕنْ مَّسَّتْهُمْ نَفْحَةٌ مِّنْ عَذَابِ بہروں کو ہوشیار کیا جائے تو وہ آواز نہیں سن سکتے۔اور اگر ان کوعذاب کی گرمی کا کوئی جھونکالگ جائے تو وہ رَبِّكَ لَيَقُوْلُنَّ يٰوَيْلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِيْنَ۰۰۴۷وَ نَضَعُ ضرور کہیںگے ہم پر افسوس !ہم تو ظلم ہی کرتے رہے۔اور ہم قیامت کے دن ایسے تول کے سامان الْمَوَازِيْنَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْـًٔا١ؕ (یعنی پورا پورا تولنے والے سامان) پید ا کریںگے کہ جن کی وجہ سے کسی جان پر ذراسا بھی ظلم نہیں کیا جائےگا وَ اِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ اَتَيْنَا بِهَا١ؕ وَ اور اگر ایک رائی کے دانہ کے برابر بھی (کو ئی عمل) ہوگا تو ہم (اس کو) موجود کردیںگے كَفٰى بِنَا حٰسِبِيْنَ۰۰۴۸ اور ہم حساب لینے میںکافی ہیں۔حلّ لُغَات۔النَّفْحَۃُ۔النَّفْحَۃُ مِنَ الْعَذَابِ :اَلْقِطْعَۃُ عذاب کاایک حصہ (اقرب)