تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 531 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 531

ہوئی تھی۔احادیث میں آتا ہے کہ ایک دفعہ غرباء رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے عرض کیا کہ جس طرح ہم نمازیں پڑھتے ہیںاسی طرح امراء نمازیں پڑھتے ہیں جس طرح ہم روزے رکھتے ہیں اسی طرح امراء روزے رکھتے ہیں۔جس طرح ہم حج کرتے ہیں اسی طرح امراء حج کرتے ہیں مگر یا رسول اللہ ہم زکوٰۃ اور صدقہ و خیرات اور چندے وغیرہ نہیں دے سکتے۔اس وجہ سے وہ نیکی کے میدان میں ہم سے آگے بڑھے ہوئے ہیں۔کوئی ایسی ترکیب بتائیں کہ امراء ہم سے آگے نہ بڑھ سکیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہت اچھا میں تمہیں ایک ایسی ترکیب بتا تا ہوں کہ اگر تم اس پر عمل کرو تو تم پانچ سو سال پہلے جنت میں داخل ہو سکتے ہو انہوں نے عرض کیا کہ وہ کیا ہے۔آپ نے فرمایا وہ ترکیب یہ ہے کہ ہر فرض نماز کے بعد ۳۳ دفعہ سبحان اللہ ۳۳ دفعہ الحمد للہ اور۳۴ دفعہ اللہ اکبر کہہ لیا کرو۔وہ وہاں سے بڑے خوش خوش اُٹھے اور انہوں نے سمجھا کہ ہم نے میدان مار لیا۔مگر کچھ دنوں کے بعد پھر وہی وفد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو ا اور اُس نے عرض کیا کہ ہم پر بڑا ظلم ہوا ہے۔آپ نے فرمایا کس طرح ؟ انہوں نے عرض کیا کہ آپ نے جو بات ہمیں اُس روز بتائی تھی وہ کسی طرح امیروں کو بھی پہنچ گئی ہے اور اب انہوں نے بھی یہ ذکر شروع کر دیا ہے(کنزالعمال باب فی السماء و الصدقۃ فصل فی انواع الصدقة)۔اب ہم کیا کریں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگرنیکی حاصل کرنے کا اُن کے دلوں میں اس قدر جوش پایا جاتا ہے تو میں انہیں کس طرح روک سکتا ہوں۔یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اس آیت میں تجارت اور بیع دونوں کا الگ الگ ذکر کیا گیا ہے۔حالانکہ کوئی تجارت بغیر بیع کے نہیں ہو سکتی۔درحقیقت اُس میں حکمت یہ ہے کہ بعض کاموں میں دونوں جہت یعنی خرید و فروخت سے انسان نفع کما تا ہے اور بعض کام ایسے ہوتے ہیں جن میں انسان کوئی چیز خرید تا نہیں صرف فروخت کرتا ہے۔پس وہ چیز جس میں انسان خرید و فروخت سے نفع کماتا ہے اُسے تو تجارت کہا گیا ہے۔اور جس میں انسان کوئی چیز خریدتا نہیں صرف فروخت کرتا ہے۔اُسے بیع قرار دیا گیا ہے۔جیسے زمیندار یا صناع ہے کہ جو چیز وہ فروخت کرتا ہے وہ اُس کی اپنی پیداوار ہوتی ہے۔پس اُس کا کام درحقیقت فروخت کا ہے خرید کا نہیں۔اس لئے اس کا تجارت سے الگ ذکر کیا گیا ہے۔گویا بتایا کہ ہر قسم کی تجارت خواہ وہ ملکی ہو یا اور آمدو برآمد سے تعلق رکھنے والی ہو۔اسی طرح زمیندار ہ اورصنعت و حرفت کے کارخانے نہ انہیں نمازوں کی ادائیگی سے غافل کرتے ہیں اور نہ زکوٰۃ کی ادائیگی سے اُن کی توجہ پھراتے ہیں وہ دنیا میں رہ کر تجارت بھی کرتے ہیں زراعت بھی کرتے ہیں۔ملازمت بھی کرتے ہیں۔مگر پھر وہ آسمان پر بھی ہوتے ہیں کیونکہ ان کا دل خدا تعالیٰ کی طرف لگا ہوا ہوتا ہے اور وہ اس دن سے ڈرتے ہیں جس دن اُن