تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 532 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 532

کے دل اور اُن کی آنکھیں پھری ہوئی ہوںگی اور وہ گھبرائے ہوئے اِدھر اُدھر دوڑ رہے ہوںگے۔نادان انسان جب اُن کے پاس مال دیکھتا ہے تو سمجھتا ہے کہ شائد اُن کے دل میں مال کی بڑی محبت ہے مگر اُن کے آسمانی ہونے کی یہ دلیل ہوتی ہے کہ جب بھی انہیں خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی آواز آتی ہے وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں اور اس طرح اپنے عمل سے ثابت کر دیتے ہیں کہ ان کا اصل مقصود خدا تعالیٰ کی ذات ہے اور اُن کی دنیا دین کے راستہ میں روک نہیں بلکہ وہ دنیا اس لئے کماتے ہیں تاکہ وہ دین کی زیادہ دل جمعی اور اطمینان کے ساتھ خدمت کر سکیں۔یہ امر بھی یاد رکھنا چاہیے کہ دنیا میں مختلف مذہبی جماعتیں اپنی ترقی کی نسبت تین قسم کے خیالات رکھتی ہیں۔(۱) بعض جماعتوں کا یہ خیال ہے کہ مذہب نام اس بات کا ہے کہ دنیا کو چھوڑ دیا جائے اور کلی طور پر تمام افراد اپنے تمام اوقات دینی کاموں میں مشغول رکھیں۔ایسی جماعتیں یا تو دنیا میں صرف تصوف کا ایک سلسلہ ہو کر رہ گئی ہیں اور یا پھر وہ اپنی بات پر عمل نہیں کر سکیں۔بہت سے سادھو او ر فقیر دنیا میں ایسے نظر آتے ہیں جو اس قسم کی تعلیم دیتے ہیں کہ دنیا کمانی نہیں چاہیے۔کارخانوں کو جاری نہیں کرنا چاہیے۔تجارتوں میں مشغول نہیں ہونا چاہیے۔زمیندارہ کام کی طرف توجہ نہیں کرنی چاہیے۔بلکہ ان تمام کاموں کو چھوڑ کر صرف خدا کی یاد اور اُس کی محبت میں اپنی عمر گذار دینی چاہیے۔مگر ایسی جماعتیں ہزاروں اور لاکھوں سے آگے کبھی نہیں بڑھیں کیونکہ وہ فطرت ِ انسانی کے خلاف تعلیم دیتی ہیں۔اور اگر کوئی جماعت باوجود اس تعلیم کے بڑھی ہے تو وہ اس تعلیم کو پسِ پشت پھینک کر بڑھی ہے۔اس پر عمل کرکے نہیں بڑھی۔مثلًا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف یہ بات منسوب کی جاتی ہے کہ انہوں نے ایک شخص سے کہا کہ تُو اپنا تمام مال و اسباب بیچ کر غریبوں کو دے دے ( متی باب ۱۹ آیت ۲۱) یا کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے حواریوں سے یہ بات کہی کہ ’’ اونٹ کا سوئی کے ناکہ میں سے نکل جانا اس سے آسان ہے کہ دولت مند خدا کی بادشاہت میں داخل ہو۔‘‘ ( متی باب ۱۹ آیت ۲۴) اسی طرح انہوں نے ایک موقعہ پر اپنے حواریوں کو یہ تعلیم دی کہ ’’ اپنے واسطے زمین پر مال جمع نہ کرو جہاں کیڑا اور زنگ خراب کرتا ہے اور جہاں چور نقب لگاتے اور چراتے ہیں۔بلکہ اپنے لئے آسمان پر مال جمع کرو جہاں نہ کیڑا خراب کرتا ہے نہ زنگ اور نہ وہاں چور نقب لگاتے اور چراتے ہیں۔‘‘ ( متی باب ۶ آیت ۱۹،۲۰) یہ تعلیم ہے جو حضرت مسیح علیہ السلام نے دی اور جس کا موجودہ اناجیل میں ذکر آتا ہے۔اب دیکھنے والی بات یہ ہے کہ بیشک عیسائی بڑھے اور انہوں نے دنیامیں خوب ترقی کی لیکن کیا عیسائیوں کی ترقی اس تعلیم پر عمل کرنے کے