تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 530
کی مصداق ہوتی ہے جو خدا تعالیٰ کے ذکر سے اُسے غافل نہیں کرتی۔یہ نہیں کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے آواز آئے اور وہ کہنے لگ جائے کہ میں کیا کروں میری تجارت کو نقصان پہنچے گا۔میری زراعت میں حرج واقع ہو گا بلکہ اُسے اللہ تعالیٰ کی آواز پر لبیک کہنے کے سوا اور کچھ سوجھتا ہی نہیں۔وہ جانتا ہی نہیں کہ میں تاجر ہوں وہ جانتا ہی نہیں کہ میں زمیندار ہوں۔وہ جانتا ہی نہیں کہ میں صناع ہوں بلکہ وہ سمجھتا ہے کہ میں ساری عمر ہی خدا تعالیٰ کے سپاہیوں میں شامل رہا ہوں اور اس کی تنخواہ کھاتا رہا ہوں اور اب وقت آگیا ہے کہ میں حاضر ہو جائوں۔اور اپنی جان اس کی راہ میں قربان کردوں پس باوجود تجارت کرنے کے وہ واقفِ زندگی ہے۔باوجود زراعت کرنے کے وہ واقف زندگی ہے اور باوجود کوئی اور پیشہ اختیار کرنے کے وہ واقف زندگی ہے۔مگر جو شخص ایسا نہیں کرتا جس کے کانوں میں خدا تعالیٰ کی یا اُس کے مقرر کردہ کسی نائب کی آواز آتی ہے اور بجائے اس کے کہ وہ اپنے دل میں بشاشت محسوس کرے اور کہے کہ وہ وقت آگیا ہے جس کا میں منتظر تھا وہ اپنے دل میں قبض محسوس کرتا ہے اور قربانی کرنے سے ہچکچاتا ہے اور اسے اپنے لئے ایک تکلیف اور دُکھ سمجھتا ہے تو ایسا انسان درحقیقت خدا تعالیٰ کی فوج میں شامل نہیں۔اس حقیقت کو انسان پر ظاہر کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے پانچ نمازیں مقرر کی ہیں۔ہر روز پانچ وقت خدا تعالیٰ تمہارا امتحان لیتا اور پانچ وقت تمہارے ایمان کی حقیقت تم پر آشکار کرتا ہے۔پانچ وقت جب مکبر کھڑا ہوتا اور کہتا ہے حَيَّ عَلَی الصَّلٰوۃِ۔حَيَّ عَلَی الصَّلٰوۃِ۔اے لوگو آئو نماز کی طرف۔اے لوگو آئو نماز کی طرف۔تو اگر تمہارے ہاتھوں پر اُس وقت لرزہ طاری ہو جاتا ہے۔تمہارے جسم میں کپکپی پیدا ہو جاتی ہے اور تمہیں بھول جاتا ہے کہ تم تاجر ہو۔تمہیں بھول جاتا ہے کہ تم زمیندار ہو۔تمہیں بھول جاتا ہے کہ تم صناع ہو۔تمہیںبھول جاتا ہے کہ تم ملازم ہو۔تمہیں بھول جاتا ہے کہ تم نجار ہو۔تمہیں بھول جاتا ہے کہ تم معما ر ہو۔تمہیں بھول جاتا ہے کہ تم لوہار ہو۔تمہیں صرف ایک ہی بات یاد رہ جاتی ہے اور وہ یہ کہ تم خدا کے سپاہی ہو تب اور صرف تب تم اپنے دعوٰئے ایمان میں سچے سمجھے جا سکتے ہو۔لیکن اگر تمہارے اندر یہ کیفیت پیدا نہیں ہوتی اور خدا تعالیٰ کی آواز تو تمہیں یہ کہتی ہے کہ حَيَّ عَلَی الصَّلٰوۃ اے میرے بندو میری عبادت کے لئے آئو او ر تمہارا نفس تمہیں کہہ رہا ہوتا ہے کہ دو گاہک او ر دیکھ لوں اور چند پیسے کمالو ں۔اور بعض دفعہ تو یہ بھی کہنے لگ جاتا ہے کہ مسجد میں جاکر نماز کیا پڑھنی ہے اسی جگہ پڑھ لیں گے۔بلکہ کئی دفعہ واقعہ میں تم مسجد میں نہیں آتے اور گھر پر یاد وکان پر ہی نماز پڑھ لیتے ہو تو تم سمجھ لو کہ پانچ وقت خدا نے تمہارا امتحان لیا اور پانچوں وقت تم فیل ہوگئے۔صحابہ کرامؓ ذکر الٰہی میں ترقی کرنے کی اتنی کوشش کیا کرتے تھے کہ اُن کی یہ جدوجہد وارفتگی کی حد تک پہنچی