تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 517 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 517

دیتے ہیں تو پہلے سے بہت زیادہ دُور اس کی روشنی پھیل جاتی ہے۔غرض اس آیت میں الوہیت۔نبوت اور خلافت کا جوڑ بتا یا گیا ہے۔اگر کوئی کہے کہ آخر خلافت بھی تو ختم ہو جاتی ہے۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ خلافت کاختم ہونا یا نہ ہونا انسانوں کے اختیار میں ہے اگر وہ پاک رہیں اور خلافت کی بے قدری نہ کریں تو یہ طاقچہ سینکڑوں بلکہ ہزاروں سال تک قائم رہ کر اُن کی طاقت کو بڑھانےکا موجب ہو سکتا ہے اور اگر وہ خود ہی اس انعام کو رد کردیں تو اس کا علاج کسی شخص کے پاس نہیں۔اَللّٰہُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ والی آیت کا مضمون مختصراً بتانے کے بعد اب میں یہ بتاتا ہوں کہ کس طرح یہ تمام سورۃ اسی ایک مضمون کے گرد چکر لگا رہی ہے۔اس سورۃ کو اللہ تعالیٰ نے بدکاری اوربدکاری کے الزامات لگانے والوں کے ذکر سے شروع کیا ہے اور اس کی تفصیلات بیان کرنے کے بعد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر جوا لزام لگا تھا اس کا ذکر کیا ہے۔پھر اور بہت سی باتیں اسی کے ساتھ تعلق رکھنے والی بیان فرماتا ہے اور مسلمانوں کو نصیحت کرتا ہے کہ انہیں ایسے مواقع پر کن کن باتوں پر عمل کرنا چاہیے پھر وہ ذرائع بیان کرتا ہے جن پر عمل کرنے سے بدکاری دنیا سے مٹ سکتی ہے۔یہ تمام مضامین اللہ تعالیٰ نے پہلے دوسرے اور تیسرے رکوع میں بیان فرمائے ہیں۔کسی جگہ الزام لگانے والوں کے متعلق سزا کا ذکر ہے۔کسی جگہ الزامات کی تحقیق کے طریق کا ذکر ہے۔کسی جگہ شرعی ثبوت لانے کا ذکر ہے کسی جگہ ایسے الزامات لگنے کی وجوہ کا ذکر ہے۔کسی جگہ ان دروازوں کا ذکر ہے جن سے گناہ پیدا ہوتا ہے۔غرض تمام آیتوں میں ایک ہی مضمون بیان کیا گیا ہے مگر اس کے معًا بعد فرماتا ہے اَللّٰہُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔اب انسان حیران رہ جاتا ہے کہ ا س کا پہلے رکوعوں سے کیا تعلق ہے ؟ ایک ایسا مفسر جو یہ خیال کرتا ہے کہ قرآ ن کریم میں کوئی ترتیب نہیں وہ نعوذ باللہ ایک بے ربط کلام ہے۔اس کی آیتیں اسی طرح متفرق مضامین پر مشتمل ہیں جس طرح دانے زمین پر گرائے جائیں تو کوئی کسی جگہ جاپڑتا ہے اور کوئی کسی جگہ وہ تو کہہ دے گا کہ اس میں کیا حرج ہے۔پہلے وہ مضمون بیان کیا گیا تھا اور اب یہ مضمون شروع کر دیا گیا ہے۔مگر وہ شخص جو حضرت مسیح موعو د علیہ السلام کی تعلیم سے واقف ہے جو جانتا ہے کہ قرآن کریم کا ہر لفظ ایک ترتیب رکھتا ہے۔وہ یہ دیکھ کر حیران ہو جاتا ہے کہ پہلے تو بدکاری کے الزامات اور اُن کو دور کرنے کا ذکر تھا اور اس کے معًا بعد یہ ذکر شروع کر دیا گیا ہے کہ اَللّٰہُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۔ان دونوں کا آپس میں جوڑ کیا ہو ا۔پھر انسان اور زیادہ حیران ہو جاتا ہے جب وہ یہ دیکھتا ہے کہ پانچویں رکوع میں تو یہ بیان کیا گیا ہے کہ اَللّٰہُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اور اس سے دو رکوع بعد یعنی ساتویں رکوع میں اللہ تعالیٰ نے یہ ذکر شروع کر دیا ہے کہ وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ