تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 48
پیدا کر سکتے ہیں۔بَلْ مَتَّعْنَا هٰؤُلَآءِ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى طَالَ عَلَيْهِمُ حقیقت یہ ہے کہ ہم نے ان کو بھی اوران کے باپ دادوں کو بھی بہت سامال و متاع دے رکھا تھا یہاں تک کہ ان الْعُمُرُ١ؕ اَفَلَا يَرَوْنَ اَنَّا نَاْتِي الْاَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ پرایک لمبازمانہ گزر گیا پس کیا یہ نہیںدیکھتے کہ ہم ان کے ملک کی طرف بڑھ رہے ہیں اور کناروںکی طرف اَطْرَافِهَا١ؕ اَفَهُمُ الْغٰلِبُوْنَ۰۰۴۵ سے اسے چھوٹاکرتے جارہے ہیں تو کیا (اس سے یہی نتیجہ نکلتاہے کہ )وہ غالب آئیںگے۔حلّ لُغَات۔اَطْرَاف۔اَطْرَافٌ طَرَفٌ کی جمع ہے اور طَرَفٌ کے معنے ہیں حَرْفُ الشَّیْءِ وَ نِھَایَتُہُ کسی چیز کا کنارہ۔النَّاحِیَۃُ طرف۔اَلرَّجُلُ الْکَرِیْمُ۔معزز آدمی (اقرب) تفسیر۔حقیقت یہ ہے کہ جب کسی قوم کی عمر لمبی ہوجاتی ہے تو وہ تکبر کی مرض میں مبتلا ہو جاتی ہے اور یہ نہیںدیکھتی کہ اس وقت اس کی تباہی کے سامان پیدا ہورہے ہیں تاریخ گواہ ہے کہ ہمیشہ ایسا ہوتاچلا آیا ہے۔بلکہ موجودہ زمانہ میں ہی انگریزوں اور فرانسیسیوں کو ہی دیکھ لولمبی حکومت کے بعد خود ان کی حکومت ہی ان کے لئے وبال جان بن گئی اور ان کی شہنشاہت کے اجزا خود ان کے لئے ایک ذلت کاطوق بن گئے۔ہندوستان انگلستان سے کتنی دور تھا اور پھر انگریزوں نے کتنی شاندار حکومت یہاں کی لیکن پچھلی بڑی جنگ میں مسٹر چرچل کے قول کے مطابق ہندوستان انگریز کے گلے کاپتھر بن گیا اور چرچل چیخ اٹھاکہ اگر انگلستان کو بچانا چاہتے ہو تو اس پتھر کو سمندر میںپھینک دو۔اب مصر اورملایا اسی طرح پتھر بن کے گلے میںلٹکے ہوئے ہیں کچھ عرصہ کے بعد نیوزی لینڈ ، آسٹریلیا اور کینیڈا گلے کے پتھر بن جائیں گے مگر پھر بھی کچھ عرصہ تک انگلستان کا غرور قائم رہے گا اور انگریز یہی سمجھتے رہیںگے کہ ہم غالب ہیں مگر آخر خدا تعالیٰ کی وحی جیتے گی۔تاریخ پر غور کرنے سے معلوم ہوتاہے کہ سب سے بڑی مصیبت ہمیشہ یہی رہی ہے کہ جب دنیامیںکوئی قوم طاقتور ہوجاتی ہے تو اسے جتنی زندگی ملتی ہے چاہے وہ ساٹھ سال کی ہو یاسو سال کی ہو یادوسو سال کی ہو اس زندگی کی