تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 508 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 508

کے راستہ میں روک ڈالتا ہے اور اس طرح اُسے جبری نکاح پر مجبور کرتا ہے تو اس کے نتیجہ میں اس کے دل میں جو بغض پیدا ہوگااُس کی وجہ سے عورت پر کوئی گناہ نہیں ہوگا۔مرد کو ہوگا کیونکہ عورت کے دل میں جو بے دفائی پیدا ہوگی وہ مر دکے جبر کی وجہ سے ہوگی۔اَللّٰهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ مَثَلُ نُوْرِهٖ كَمِشْكٰوةٍ فِيْهَا اللہ آسمانوں کا بھی نور ہے اور زمین کا بھی۔اُس کے نور کی کیفیت یہ ہے جیسے کہ ایک طاق ہو جس میں ایک دِیا مِصْبَاحٌ١ؕ اَلْمِصْبَاحُ فِيْ زُجَاجَةٍ١ؕ اَلزُّجَاجَةُ كَاَنَّهَا كَوْكَبٌ پڑا ہو (اور وہ) دِیا ایک شیشے کے گلوب کے نیچے ہو (اور) وہ گلوب ایسا چمکدار ہو کہ گویا وہ ایک چمکتا ہوا ستارہ ہے دُرِّيٌّ يُّوْقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُّبٰرَكَةٍ زَيْتُوْنَةٍ لَّا شَرْقِيَّةٍ وَّ لَا (اور) وہ (چراغ) ایک ایسے برکت والے درخت( کے تیل) سے جلایا جارہا ہو کہ وہ (درخت) نہ مشرقی ہو نہ مغربی۔غَرْبِيَّةٍ١ۙ يَّكَادُ زَيْتُهَا يُضِيْٓءُ وَ لَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ١ؕ قریب ہے کہ اُس کا تیل خواہ اُسے آگ نہ بھی چھوئی ہو بھڑک اُٹھے۔(یہ چراغ) بہت سے نوروں کا مجموعہ نُوْرٌ عَلٰى نُوْرٍ١ؕ يَهْدِي اللّٰهُ لِنُوْرِهٖ مَنْ يَّشَآءُ١ؕ وَ يَضْرِبُ ( معلوم ہوتا) ہے۔اللہ (تعالیٰ) اپنے نور کے لئے جن کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔اور اللہ (تعالیٰ) لوگوں کے لئے اللّٰهُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌۙ۰۰۳۶ (تمام ضروری) باتیں بیان کرتا ہے۔اور اللہ (تعالیٰ) ہر ایک چیز کو خوب جانتا ہے۔حلّ لُغَات۔مِشْکٰوۃٌ۔اَلْمِشْکٰوۃُ کے معنے ہیں کُلُّ کُوَّۃٍ غَیْرِ نَافِذَۃٍ۔ہر وہ سوراخ جو دیوار میں کوئی چیز رکھنے کے لئے بنا یا جائے اور وہ دوسری طرف نہ کھلے۔( اقرب) اَلزُّ جَاجَۃُ۔اَلْقِطْعَۃُ مِنَ الزُّجَاجِ۔زجاجہ کے معنے ہیں شیشے کا ٹکڑا۔( اقرب) دُرِّیٌّ۔کہتے ہیں کَوْکَبٌ دُرِّیٌّ اور اس کے معنے ہوتے ہیں اَیْ ثَاقِبٌ مُضِيٌّ یعنی چمکنے والا روشن ستارہ ( اقرب)