تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 507
ممکن ہے یہاں کوئی شخص کہہ دے کہ اگر پاگل یا کم عقل والے کی مکاتبت کو روکنا جائز ہے تو پھر تو لوگ اچھے بھلے سمجھدار لوگوں کو بے عقل قرار دے کر اپنا غلام بنائے رکھیں گے۔آزاد تو وہ پھر بھی نہ ہوئے۔اس کا جواب یہ ہے کہ اسلامی قانون یہ ہے کہ ایسی صورت میں وہ گورنمنٹ کے پاس درخواست کر سکتا ہے کہ میں صاحبِ عقل ہوں کما سکتا ہوں مگر میرا مالک مجھے جان بوجھ کر غلام بنائے ہوئے ہے اور قاضی فیصلہ کرکے اُسے آزادی کا حق دلا دے گا۔غرض کوئی صورت بھی ایسی نہیں جس میں غلاموں کی آزادی کو مدنظر نہ رکھا گیا ہو اوّل مالک کو کہا کہ وہ احسان کر کے چھوڑ دے۔دوم اگر مالک ایسا نہ کر سکے تو غلام کو اختیار دیا کہ وہ تاوانِ جنگ ادا کرکے آزاد ی حاصل کر لے اور اگر فدیہ ادا کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو مکاتبت کر لے اور کہہ دے کہ میں اتنی قسطوں میں روپیہ دے دوں گا۔مجھے دو یا تین سال کی مہلت دے دو۔ایسا معاہدہ کرتے ہی وہ آزاد سمجھا جائےگا۔اگر ان ساری سہولتوں کے باوجود کوئی شخص یہ کہے کہ میںآزاد ہونا نہیں چاہتا تو ماننا پڑے گا کہ اُسے اپنی غلامی آزادی سے اچھی معلوم ہوتی ہے۔اور حقیقت بھی یہی ہے کہ صحابہ کرام ؓ کے پاس جو غلام تھے وہ انہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کے ماتحت اس عمدگی اور آرام کے ساتھ رکھتے تھے کہ انہیں آزادی سے غلامی بہتر معلوم ہوتی تھی۔اس جگہ اللہ تعالیٰ نے وَ اٰتُوْهُمْ مِّنْ مَّالِ اللّٰهِ الَّذِيْۤ اٰتٰىكُمْ کہہ کر بنی نوع انسان کو اس لطیف نکتہ کی طرف بھی توجہ دلائی ہے کہ وہ اموال جو تمہارے قبضہ میں ہیں درحقیقت ایک امانت کے طور پر تمہارے پاس ہیں ورنہ اس مال میں دوسروں کا بھی حق شامل ہے اور تمہارا فرض ہے کہ اُن کے حقوق ادا کرو۔تمہیں یہی خوشی اپنا سب سے بڑا انعام سمجھنا چاہیے کہ تمہارے کئی بھائی جو تمہاری طرح اس مال کے حصہ دار ہیں تمہارے ذریعہ سے پرورش پا رہے ہیں اور خدا تعالیٰ نے تم کو اس درجہ پر پہنچایا ہے کہ اُس کی مخلوق کی ربوبیت میں تم بھی حصہ لو۔پھر فرماتا ہے کہ اپنی لونڈیوں کو بدکاری پر مجبور نہ کرو۔چونکہ اس جگہ مکاتبت یعنی مشروط آزادی حاصل کرنے والے غلاموں کا ذکر ہے اس لئے اس جگہ وہی لونڈیاں مراد لی جائیں گی جو مشروط آزادی حاصل کرنا چاہتی ہیں۔اور اس آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ ایسی لونڈیوں کو جو کہ مشروط آزادی حاصل کرنا چاہتی ہیں دنیا کے حصول کی غرض سے اُن کے اس اراد ہ میں روک ڈال کر بدکاری پر مجبور نہ کرو۔یعنی جو عورت مشروط آزادی حاصل کر کے جبری نکاح سے بچنا چاہتی ہے اور مکمل آزادی کے بعد اپنی مرضی کے خاوند سے نکاح کرنا چاہتی ہے اُس کو اس ارادہ سے باز رکھنا ایسا ہی ہے جیسا کہ بدکاری پر مجبور کرنا۔وَ مَنْ يُّكْرِهْهُّنَّ فَاِنَّ اللّٰهَ مِنْۢ بَعْدِ اِكْرَاهِهِنَّ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۔اور جو شخص آزادی کی کوشش کرنے والی عورت