تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 509
تفسیر۔اس آیت میں بتا یا گیا ہے کہ آسمانی نور بھی خدا کی طرف سے آتا ہے اور زمینی نور بھی یعنی شریعت حقہ بھی آسمان سے آتی ہے اور اُس کی زمین پر اشاعت بھی اس کے فضل سے ہوتی ہے۔اُس کے نور کی مثال ایسی ہی ہے جیسا کہ ایک طاق ہو جس میں ایک تیز روشنی والا چراغ رکھا ہوا ہو اور چراغ پر ایک چمنی یا گلوب ہو۔اور وہ چمنی یا گلوب ایسے صاف شیشے کا ہو کہ گویا وہ ایک چمکتا ہوا ستارہ ہے۔انسانی تجربہ نے یہ بتایا ہے کہ لیمپ کی سب سے اچھی روشنی تبھی ہوتی ہے جب اس کے پیچھے کوئی ایسی روک ہو جو اُس کے نور کو چاروں طرف نہ پھیلنے دے بلکہ صرف آگے کی طرف پھینکے۔جس کی طرف مشکوٰۃ کے لفظ سے اشارہ کیا گیا ہے۔یہ نور خصوصاً اُس وقت پھیلتا ہے۔جبکہ چراغ چمنی کے اندر ہو۔اورچمنی بہت صاف شیشے کی بنی ہوئی ہو۔اور تیل بھی اعلیٰ درجہ کا ہو۔اس کی طرف اشارہ کرنے کے لئے فرماتا ہے کہ الٰہی نور کا چراغ ایک ایسے تیل سے جلتا ہے جو زیتون کے مبارک درخت سے نکلتا ہے۔مُبَارَکٌ کا لفظ بِرْکَۃٌسے نکلا ہے اور بِرْکَۃٌ اُس نیچی جگہ کو کہتے ہیں جہاں بارش ہونے پر اردگرد کا تمام پانی بہ کر جمع ہو جائے۔پس مُبَارَکَۃٌ کے یہ معنے ہیں کہ وہ ایسا شجرہ ہے جس میں ساری خوبیاں اور کمالات جمع ہیں۔اور پھر اُسے زیتون قرار دے کر اس طرف اشارہ کیا کہ وہ کلام جو اب دنیا میں نازل کیا جا رہا ہے وہ نئے سے نئے علوم اور معارف کو دنیا میں قائم کر نے کا ایک ذریعہ ہوگا کیونکہ زیتون علاوہ اس کے کہ ایک پھل کا کام دیتا ہے اس کی لکڑی اور تیل جلانے کے کام آتا ہے اور اس کے پتوں اور چھال سے بُننے کا کام لیا جاتا ہے۔اسی طرح اس کا روغن کثرت کے ساتھ مختلف مواقع پر استعمال کیا جاتا ہے اور آچار میں بھی ڈالا جاتا ہے جو اس کو دیر تک قائم رکھتا ہے۔اس طرح تمثیلی زبان میں اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ موسوی او ر عیسوی تعلیمیں تو سڑ جانے والی اور عملی لحاظ سے ایک دن ناکارہ ہونے والی تھیں مگر اسلام کے ذریعہ بنی نوع انسان کو وہ تعلیم دی جائےگی جو نہ صرف سڑنے اور خراب ہونے سے محفوظ ہوگی بلکہ انسانی ذہنوں میں وہ ایسا نو ر پیدا کرے گی کہ اس کے ذریعہ سے نئے سے نئے علوم اور نئے سے نئے معارف اُن کو حاصل ہو تے رہیں گے۔نور کے متعلق عا م طور پر کہا جاتا ہے کہ یہ تو اُس مادی چیز کا نام ہے جو بعض مادی چیز وں کے رگڑ کھانے سے پیدا ہو تا ہے۔پھر خدا تعالیٰ نور کیونکر ہوا ؟ نحویوں نے تو اسے اس طرح حل کیا ہے کہ انہوں نے نو ر سے پہلے ایک مخذوف نکالا ہے اور کہا ہے کہ اَللّٰہُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ کے معنے ہیںاللّٰہُ صَاحِبُ نُوْرِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ( املاء مامن بہ الرحمٰن زیر آیت ھٰذا) یعنی آسمانوں اور زمین کے سب نور خدا تعالیٰ کے قبضہ و تصرف میں ہیں اور جب سب نور اس کے قبضہ میں ہیں تو جو انسان بھی ترقی کرنا چاہتا ہے اُس کے لئے ضروری ہے کہ وہ خدا تعالیٰ سے تعلق رکھے۔