تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 505 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 505

غربت کی وجہ سے رشتہ ملنے میں دقتیں ہوں وہ ایسی احتیاطوں سے کام لیں جو شہوات کو کم کرنے والی ہوں اور پاکیزہ زندگی بسر کریں اور اُس وقت تک انتظار کریں جب تک کہ خدا تعالیٰ اُن کے لئے شادی کا رستہ نہ کھول دے۔چونکہ پچھلی آیات میں جنگی قیدیوں کا نکاح کرنے کے متعلق خدا تعالیٰ نے اپنے احکام بیان فرمائے تھے اس لئے اب یہ بتاتا ہے کہ ہمارے ان احکام سے یہ نہ سمجھنا کہ ہم غلامی کو پسند کرتے اور اس کو دنیا میں قائم رکھنا چاہتے ہیں۔یہ احکام انسانی مجبوری کی وجہ سے دئیے گئے ہیں ورنہ ہمارا اصل منشاء یہی ہے کہ غلاموں کو آزاد کیا جائے خواہ احسان کے طور پر انہیں آزاد کر دیا جائے اور خواہ فدیہ لےکر۔چنانچہ فرمایا۔وَ الَّذِيْنَ يَبْتَغُوْنَ الْكِتٰبَ مِمَّا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ فَكَاتِبُوْهُمْ اِنْ عَلِمْتُمْ فِيْهِمْ خَيْرًا۔یعنی وہ لوگ جو تمہارے غلام مردوں یا عورتوں میں سے مکاتبت چاہتے ہیں اگر تم اُن میں قابلیت دیکھو تو ان کو مشروط آزادی دے دو۔’’ اگر اُ ن میں قابلیت دیکھو ‘‘ کے یہ معنے نہیں کہ مالک خود فیصلہ کرے کہ غلام میں آزادی کی قابلیت ہے یا نہیں بلکہ غلام اس کا فیصلہ قاضی سے کروائےگا۔اگر قاضی کہے گا کہ یہ مرد یا عورت اس قابل ہیں کہ مشروط آزادی حاصل کرکے اپنا گذارہ چلا سکیں گے تو وہ حکم دے دےگا کہ ان سے مکاتبت کر لی جائے۔ورنہ اس سے روک دےگا تاکہ وہ تباہ نہ ہو جائیں۔پھر مزید سہولت اس طرح پیدا کی کہ حکم دے دیا کہ تمہیں خدا کی راہ میں مال خرچ کرنے کے جو پہلے طریقے بتائے جا چکے ہیں اُن میں یہ زیادتی کی جاتی ہے کہ اپنے مالوں کا کچھ حصہ مشروط آزادی حاصل کرنے والے غلاموں کو کامل آزادی دلانے میں بھی خرچ کرو۔حقیقت یہ ہے کہ قرآن کریم نے غلام کے لئے دو ہی صورتیں رکھی ہیں۔جن کا ذکر اُس نے سورۂ محمد میں ان الفاظ میں فرمایا ہے کہ اِمَّا مَنًّۢا بَعْدُ وَ اِمَّا فِدَآءً (محمد:۵)یعنی مذہبی جنگ میں جب کوئی شخص قید ہو کر تمہارے پاس آئے تو یا تو اس کو بطور احسان چھوڑ دو اور یا پھر فدیہ لے کر چھوڑ دو۔یہ صورت تمہارے لئے کسی طرح بھی جائز نہیں کہ باوجود اس کے کہ کوئی شخص اپنا فدیہ پیش کرتا ہو پھر بھی اس کو غلام رکھا جائے۔مگر چونکہ ممکن تھا کہ ایک شخص غریب ہو اور وہ خود فدیہ ادا کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو گورنمنٹ ظالم ہو اور اُسے رہا کرانے کا کوئی احساس نہ ہو۔اس کے رشتہ دار لاپرواہ یا بدمعاش ہوں اور وہ چاہتے ہوں کہ وہ قید ہی رہے تاکہ وہ اُس کی جائیداد پر قبضہ کئے رکھیں اور دوسری طرف مالک کی یہ حالت ہو کہ وہ بغیر فدیہ لینے کے اُسے آزاد کرنے کی طاقت ہی نہ رکھتا ہو کیونکہ بالکل ممکن ہے کہ جو رقم اُس نے جنگ میں خرچ کی تھی اُس نے اُس کی مالی حالت کو خراب کر دیا ہو۔تو ایسی صورت کے لئے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ وہ لوگ جن کو اللہ تعالیٰ نے تمہارا غلام بنایا ہے اور تمہیں اُن پر قبضہ و تصرف حاصل ہے اگر وہ تم سے کہیں کہ صاحب ہمیں چھڑانے والا کوئی نہیں اور نہ ہمارے پاس دولت ہے کہ ہم فدیہ دے کر رہا ہو سکیں ہم غریب اور