تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 504 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 504

تفسیر۔اب اس سوال کا جواب دیتا ہے کہ وہ لوگ جن کے لئے شادی کا انتظام نہ ہو سکتا ہو وہ کیا کریں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلْیَسْتَعْفِفِ الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ نِکَاحًا یعنی چاہیے کہ وہ لوگ جن کو نکاح کا موقع میسر نہیں اپنی طاقتوں کو دبا دیں یعنی ایسی احتیاطوں سے جو شہوات کو کم کرتی ہیں اپنے جوشوں کو کم کریں مگر زنا نہ کریں اور نہ یہ کریں کہ اپنی اُن طاقتوں کو بالکل ضائع کر دیں جن کے ذریعہ سے بقائے نسل کا تقاضا پورا ہوتا ہے کیونکہ اس صورت میں وہ اپنی فطرت کو مسخ کر دیں گے اور اللہ تعالیٰ اس بات کو نا پسند کرتا ہے کہ فطرتی تقاضوں کو کچل دیا جائے۔اس آیت کے متعلق مفسرین کو بہت مشکل پیش آئی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ پہلی آیت میں تو یہ بتا یا تھا کہ نکاح کرنے سے فقر غناء سے بدل جائےگا مگر اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسا نہیں ہوتا کیونکہ اگر ہوتا تو یہ حکم دیا جاتا کہ ضرور نکاح کر لو۔مگر یہاں یہ کہا گیا ہے کہ اُس وقت تک انتظار کرو کہ اللہ تعالیٰ تمہیں غنی کر دے۔پس مفسرین اس آیت سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ نکاح لازماً انسان کو غنی نہیں بناتا ورنہ یہ آیت بے معنے ہو جاتی ہے۔(فتح البیان زیر آیت ھذا)لیکن میرے نزدیک اُن کا یہ استدلال صحیح نہیں کیونکہ غنی بنانا تو ایک الٰہی وعد ہ ہے ممکن ہے کہ باوجود اس وعدہ کے کہ اِنْ يَّكُوْنُوْا فُقَرَآءَ يُغْنِهِمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖایک شخص اپنی لڑکی یا ایک مالک اپنی لونڈی اس غلام کو دینے کے لئے تیار نہ ہو جو غریب ہو۔ایسی صورت میں بہر حال وہ شخص بغیر بیوی کے رہےگا۔سو اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کو نصیحت کی کہ اگر کسی طرح بیوی نہ ملے تو صبر کرو اور پاکدامنی اختیار کرو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ تمہیں غنی کر دے یعنی تمہارے رشتہ کا انتظام ہو جائے۔میں سمجھتا ہوں کہ مفسرین کو یہ مشکل زیادہ تر اس لئے پیش آئی ہے کہ انہوں نے لَا يَجِدُوْنَ نِكَاحًا حَتّٰى يُغْنِيَهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖکے معنے صحیح طور پر نہیں سمجھے۔اس آیت کے یہ معنے کرنا کہ جب تک مال حاصل نہ ہوجائے اس وقت تک نکاح نہیں کرنا چاہیے درست نہیں۔کیونکہ اس آیت میں اُس شخص کا ذکر نہیں جو غریب ہو اور نکاح نہ کرے بلکہ اس شخص کا ذکر ہے جو غریب ہو اور جسے غربت کی وجہ سے کوئی دوسرا شخص رشتہ دینے کے لئے تیار نہ ہو پہلے تویہ بتا یا تھا کہ اگر کسی غریب کا نکاح ہوتا ہو اور وہ اپنی غربت کی وجہ سے نکاح نہ کرے تو یہ درست نہیں وہ نکاح کرلے۔اللہ تعالیٰ اُسے غنی کر دےگا اور یہاں یہ بتایا ہے کہ اگر کسی کو غربت کی وجہ سے رشتہ نہ ملے تو اس وقت تک وہ عفت سے کام لے جب تک کہ خدااس کے لئے رشتہ کا انتظام نہ کر دے۔پس یہ دو الگ الگ حکم ہیں پہلی آیت کے تو یہ معنے ہیں کہ جو شخص خدا تعالیٰ پر کامل توکل کرکے شادی کرتا ہے خدا اُسے کشائش دے دیتا ہے اور وہ مشکلات میں گرفتا ر نہیں ہوتا اور دوسری آیت کا مفہوم یہ ہے کہ جن لوگوں کو