تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 506
نادار ہیں۔ہم آپ سے یہ شرط کر لیتے ہیں کہ آ پ کی رقم دو سال یا تین سال یا چار سال میں ادا کر دیںگے اور اس قدر ماہوار یا سالانہ قسط آپ کو ادا کیا کریں گے آپ ہمیں آزاد کر دیں توفَكَاتِبُوْهُمْ اِنْ عَلِمْتُمْ فِيْهِمْ خَيْرًا تم اس بات پر مجبور ہو کہ اُن کو آزاد کر دو۔اور اُن کے فدیہ کی رقم کی قسطیں مقرر کر لو۔بشرطیکہ تمہیں معلوم ہو کہ وہ روپیہ ادا کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔بلکہ تمہیں چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو جو کچھ دیا ہے اُس میں سے ان کی مدد کرو یعنی انہیں کچھ سرمایہ بھی دے دو تاکہ اس کے ذریعہ سے وہ روپیہ کما کر اپنا فدیہ ادا کر سکیں۔جب قسطیں مقرر ہو جائیں تو اس وقت سے وہ اپنے اعمال میں ویسا ہی آزاد ہو گا جیسے کوئی دوسرا آزاد شخص اور وہ اپنے مال کا مالک سمجھا جائےگا مگر جیسا کہ بتایا جا چکا ہے پہلے زمانوں میں چونکہ جنگ انفرادی ہوا کرتی تھی اس لئے افراد سے تاوانِ جنگ وصول کیا جاتا تھا۔مگر اس زمانہ میں قومی جنگیں ہوتی ہیں اس لئے اب یہ طریق ہوگا کہ قوم تاوانِ جنگ ادا کرے۔پہلے چونکہ باقاعدہ فوجیں نہیں ہوا کرتی تھیں اور قوم کے افراد پر جنگی اخراجات کی ذمہ داری فرداًفرداً پڑتی تھی اس لئے اُس وقت قیدی رکھنے کا بہترین طریق یہی تھا کہ اُن کو افراد میں تقسیم کر دیا جاتا تاکہ وہ اُن سے اپنے اپنے اخراجات جنگ وصول کریں۔مگر جب حکومت کی باقاعدہ فوج ہو اور افراد پر جنگی اخراجات کا بار فرداً فرداً نہ پڑتا ہو تو اُس وقت جنگی قیدی تقسیم نہیں ہوںگے بلکہ حکومت کی تحویل میں رہیں گے اور جب دوسری قوم تاوانِ جنگ ادا کر دےگی تو پھر اُن سے کوئی خدمت نہیں لی جائے گی اور انہیں رہا کر دیا جائےگا۔بہر حال اسلامی تعلیم کےماتحت غلام دنیوی جنگوں میں نہیں بنائے جاتے بلکہ صرف انہی جنگوں میں بنائے جاتے ہیں جو مذہبی ہوں۔مگر ان غلاموں کے متعلق بھی حکم دیا کہ اوّل تو احسان کرکے انہیں چھوڑ دو اور اگر ایسا نہیں کر سکتے تو فدیہ لے کر رہا کر دو۔یہ ضروری نہیں کہ وہ خود فدیہ دے اُس کے رشتہ دار بھی دے سکتے ہیں۔حکومت بھی دے سکتی ہے اور اگر گورنمنٹ لا پرواہ ہو رشتہ دار ظالم ہوں اور وہ خود غریب ہو تو وہ کہہ سکتا ہے کہ میرے ساتھ طے کرلو کہ مجھ پر کیا تاوانِ جنگ عاید ہوتا ہے اور پھر کہہ دے کہ مجھے اس تاوان کی ادائیگی کے لئے اتنی مہلت دے دو میں اس عرصہ میں اسقدر ماہوار روپیہ ادا کر کے تاوانِ جنگ دے دوںگا۔اس معاہدہ کے معًا بعد وہ آزاد ہو جائےگا اور مالک کا کوئی حق نہیں ہوگا کہ وہ کتابت میں کسی قسم کی روک پیدا کرے۔کتابت کا روکنا صرف اُسی صورت میں جائز ہے جبکہ خیر نہ ہو یعنی جنگ کا خطرہ ہو یا یہ کہ وہ پاگل اور کم عقل ہو۔خود کمانہ سکتا ہو اور خطرہ ہو کہ وہ بجائے فائدہ کے نقصان اٹھائےگا اور کتابت کی صورت میں اسلام اُسے سرمایہ مہیا کر دینے کا بھی حکم دیتا ہے خواہ وہ سرمایہ مالک دے یا حکومت۔