تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 499 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 499

کہ لوگ بیوائوں کی شادی کرنا بڑا بھاری گناہ سمجھتے ہیں۔اور اگر بعض لوگ گناہ نہیں سمجھتے تو کم ازکم اسے اپنی غیرت اور حمیت کے منافی ضرور سمجھتے ہیں گویا اُن کے نزدیک عورت ایک جانور سے بھی بدتر ہے کہ جانور تو ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں جا سکتا ہے مگر عورت ایک خاوند سے جدا ہو کر دوسرے کے پاس نہیں جاسکتی۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اگر کہیں بیوہ کی شادی ہو تو تمام گھر ماتم کدہ بن جاتا ہے اور اس کے خاندان کے ساتھ اظہار ِ ہمدردی کیا جاتا ہے اور اُن کو بڑا مظلوم سمجھا جاتا ہے۔وہ مرد کو تو اس بات کا حقدار سمجھتے ہیں کہ اپنی بیوی کے فوت ہونے پر دوسری شادی کر لے مگر عورت کو یہ حق دینے کے لئے تیار نہیں ہوتے کہ وہ اپنے خاوند کے فوت ہونے پر دوسرا شوہر کر لے۔حالانکہ قرآن کریم صاف الفاظ میں فرماتا ہے کہ ھُوَالَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّ احِدَۃٍ وَّ جَعَلَ مِنْھَا زَوْجَھَا ( الاعراف :۱۹۰) یعنی وہی ہے جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا ہے اور اُسی کی قسم سے اُس کا جوڑا بنایا گویا جیسے احساسات اور جذبات مردوں میں پائے جاتے ہیں۔ویسے ہی جذبات اور احساسات عورتوں میں بھی پائے جاتے ہیں۔اگر مرد اپنی بیوی کے فوت ہونے پر چاہتا ہے کہ وہ دوسری شادی کرے تو بیوہ کی شادی میں روک بننا بتا تا ہے کہ وہ عورت کو اپنے جیسا انسان نہیں سمجھتے اور اس کے جذبات اور احساسات کو کچلنا چاہتے ہیں۔پس بیوگان کی شادی بڑی بھاری اہمیت رکھنے والی چیز ہے۔اور قرآن کریم نے اس کو اُن احکام میں شامل کیا ہے جن سے اخلاقی برائیوں کا انسداد ہوتا ہے۔اس لئے اس سے غفلت درحقیقت قومی اخلاق کو بگاڑ نا اور بدی کو فروغ دینا ہے۔دوسری چیز جس کی طرف اس آیت میں توجہ دلائی گئی ہے۔وہ غلاموں کی شادی کامسئلہ ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تمہارے غلام شادی کے قابل ہوں اور جوان ہوں تو تم ان کی شادی کردو۔کیونکہ نہ معلوم وہ کب آزاد ہوں اور کب انہیں ازدواجی زندگی بسر کرنے کا موقعہ ملے۔یہ اسلام کے اس حسنِ سلوک کا ایک واضح اور نمایاں ثبوت ہے جو اس نے غلاموں کے ساتھ کیاہے۔نادان مخالف اعتراض کرتا ہے کہ اسلام نے غلامی کو روا رکھا ہے۔حالانکہ دنیا میں اسلام ہی وہ مذہب ہے جس نے غلامی کو صفحۂ ارض سے مٹانے میں ایک ایسا قابلِ فخر کر دار ادا کیا ہے جس کی نظیر دنیا کا کوئی اور مذہب پیش نہیں کر سکتا۔رومن ، یونانی ، مصری اور ایرانی تاریخ پڑھ کر دیکھ لو۔ان میں سے ہر ملک کی ترقی کی بنیاد غلامی پر رکھی ہوئی نظر آئےگی۔یہ غلام دو طرح بنائے جاتے تھے۔ایک طریق تو یہ تھا کہ جن سے جنگ ہوا کرتی تھی ہمسایہ قومیں اُن کے افراد کو جہاں وہ اِکّا دُکّا نظر آئیں پکڑ کر لے جاتے اور انہیں غلام بنا لیتے تھے۔چنانچہ رومی لوگ ایرانیوں کو پکڑ کر لے جاتے اور ایرانیوں کو موقعہ ملتا تو وہ رومیوں کو پکڑ کر لے جاتے اور سمجھتے کہ اس طرح ہم نے دوسرے ملک کو سیاسی لحاظ سے نقصان پہنچا دیا ہے۔دوسرا طریق یہ تھا کہ لوگ غیر مہذب ہمسایہ اقوام