تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 500 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 500

کی عورتیں اور اُن کے بچے پکڑ کر لے جاتے اور انہیں اپنی غلامی میں رکھتے۔اوّل الذکر طریق جب موقعہ ملے اور ثانی الذکر طریق بطور دستور اُن میں جاری تھا۔بلکہ یہ طریق اٹھارویں صدی تک دنیا میں رائج رہا ہے۔چنانچہ مغربی افریقہ سے لاکھوں غلام یونائیٹڈ سٹیٹس امریکہ میں لےجائے گئے جو اب تک وہاں موجود ہیں۔گو اب وہ آزاد ہو چکے ہیں مگر دو تین کروڑ باشندے اب بھی امریکہ میں ایسے موجو د ہیں جو مغربی افریقہ سے بطور غلام وہاں پہنچائے گئے تھے۔متمدن اقوام کی غرض اس سے یہ ہوتی تھی کہ وہ اپنے ملک کی دولت کو بڑھائیں۔چنانچہ ان غلاموں سے کئی قسم کے کام لئے جاتے تھے کہیں اُن کو کارخانوں میں لگا دیا جاتا تھا کہیں جہازوں کا کام اُن کے سپرد کر دیا جاتا تھا کہیں جنگل کاٹنے کا کام ان کے سپر د کر دیا جاتا تھا۔اسی طرح محنت و مشقت کے سب کا م جو قومی ترقی کے لئے ضروری ہوتے تھے۔وہ ان غلاموں سے لئے جاتے تھے مثلاً سستی چیزیں پیدا کرنا اور زیادہ نفع کمانا مقصود ہوتا تو ان غلاموں کو زمینوں کی آبپاشی اور فصلوں کی کاشت اور نگرانی پر مقرر کر دیا جاتا۔اسی طرح ملک کے غیر آباد علاقے بھی غلاموں کے ذریعہ ہی آباد کئے جاتے تھے۔چنانچہ روس میں سائیبیریا کی آبادی غلاموں یا سیاسی قیدیوں ہی کی رہینِ منّت تھی۔اسی طرح امریکہ کی آبادی غلاموں یا سیاسی قیدیوں کی ہی رہینِ منت تھی۔و ہ اپنے علاقوں کو کبھی خود آباد نہیں کر سکتے تھے۔لاکھوں لاکھ غلام وہ مغربی افریقہ سے لائے اور وہ امریکہ کے بے آباد علاقوں کو آباد کر گئے۔آج امریکہ اپنی دولت پر نازاں ہے اپنی تجارت اور اپنی صنعت پر نازاں ہے۔مگر امریکہ کی یہ دولت اور امریکہ کی آبادی رہینِ منّت ہے اُن حبشی غلاموں کی جن کو وہ مغربی افریقہ سے پکڑ کر لائے۔اسی طرح یونان اور روما کی تاریخ بتاتی ہے کہ اُن کی آبادی بھی غلاموں کی خدمات کی رہینِ منت ہے۔مصر کی تاریخ بھی بتاتی ہے کہ اُس کی آبادی غلاموں کی خدمات کی وجہ سے ہوئی۔فرانس اور سپین کی تاریخ بھی بتاتی ہے کہ اُن کی ترقی اُن خدمات کی رہینِ منت تھی جو آج سے دو تین سو سال پہلے اُن ممالک میں غلاموں نے سرانجام دیں اور جنہوں نے اُن کی اقتصادی حالت کو ترقی دے کر کہیں سے کہیں پہنچا دیا۔غرض اس طریق سے ایک طرف تو بنی نوع انسان کے ایک حصہ کو مساوات سے محروم رکھا جاتا تھا اور دوسری طرف ملک کی دولت کو بڑھایا جاتا تھا۔قرآن کریم نے ان دونوں طریقوں کو قطعاً ممنوع قرار دے دیا اور فرمایا مَا كَانَ لِنَبِيٍّ اَنْ يَّكُوْنَ لَهٗۤ اَسْرٰى حَتّٰى يُثْخِنَ فِي الْاَرْضِ١ؕ تُرِيْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْيَا١ۖۗ وَ اللّٰهُ يُرِيْدُ الْاٰخِرَةَ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ ( الانفال :۶۸)یعنی ہم نے کسی نبی کے لئے نہ پہلے یہ جائز رکھا تھا اور نہ تمہارے لئے یہ جائز ہے کہ بغیر اس کے کہ کسی حکومت سے باقاعدہ لڑائی ہو اُن افراد کو غلام بنا لیا جائے۔اگر کسی حکومت سے