تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 471 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 471

معاف کر دو۔چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے وَ جَزٰٓؤُا سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِّثْلُهَا١ۚ فَمَنْ عَفَا وَ اَصْلَحَ فَاَجْرُهٗ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ لَا يُحِبُّ الظّٰلِمِيْنَ( الشورٰی :۴۱)یعنی بدی کا بدلہ اتنا ہی ہے جتنا کسی کا جرم ہو لیکن اگر کوئی شخص دوسرے کو معاف کر دے اور اصلاح کو مدنظر رکھے یعنی اس معافی کے نتیجہ میں فساد پیدا نہ ہو بلکہ دوسرے کی اصلاح ہو تو ایسے شخص کا نیک اجر اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے لیکن یہ بھی یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔یعنی اگر کوئی شخص جرم سے زیادہ سزا دے دیتا ہے یا باوجود اس کے کہ عقلی طور پر وہ سمجھتا ہے کہ اگر مجرم کو سزا دی گئی تو اُس کے اخلاق اور بھی بگڑ جائیں گے اور وہ نیکی سے اور بھی دور چلا جائےگا۔لیکن پھر بھی وہ اس کو دُکھ دینے کے لئے سزا دے دے۔یا اگر ذاتی طور پر وہ سمجھتا ہے کہ اس شخص کو معاف کرنا اسے گناہ پر اور بھی دلیر بنا دے گا مگر اس کے باوجود وہ اسے معاف کردے تو ایسے تمام لوگ خدا تعالیٰ کی نگا ہ میں ظالم ہوںگے اور وہ اپنے اس فعل کے متعلق اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہ ہوںگے۔یہ تعلیم ہے جو اسلام نے جرائم کے سلسلہ میں پیش کی ہے۔اب غور کر کے دیکھ لو کہ یہ تعلیم کس قدر امن پیدا کرنے والی اور ہر قسم کے فسادات اور جھگڑوں کو دنیا سے مٹانے والی ہے۔عیسائیت نے دنیا کے سامنے یہ تعلیم پیش کی تھی کہ ـ’’شریر کا مقابلہ نہ کرنا بلکہ جو کوئی تیرے داہنے گال پر طمانچہ مارے دوسرا گال بھی اُس کی طرف پھیر دے۔‘‘ ( متی باب ۵ آیت ۳۹ ) مگر آج ساری عیسائی دنیا میں پھر کر دیکھ لو تمہیں ایک شخص بھی اس تعلیم پر عمل کرتا دکھائی نہیں دے گا۔اور اگر کوئی عمل بھی کرے تو یہ تعلیم دنیا میں امن قائم کرنے میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی۔فتنہ وفساد کو مٹانے والی اور ہر قسم کے جھگڑوں اور مناقشات کا سدّ باب کرنے والی وہی تعلیم ہے جو قرآن کریم نے دی اور جس کے ذریعہ مجرم کی اصلاح کو ضروری قرار دیا گیا ہے۔خواہ یہ اصلاح سزا کی صورت میں ہو یا عفو اور درگذر کی صورت میں۔اسی مضمون کو قرآن کریم کی اس آیت میں بھی بیان کیا گیا ہے کہ وَ الْكٰظِمِيْنَ الْغَيْظَ وَ الْعَافِيْنَ عَنِ النَّاسِ١ؕ وَ اللّٰهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِيْنَ۔( اٰل عمران :۱۳۵) یعنی مومن وہ ہیں جو اپنے غصہ کو دباتے اور لوگوں کی غلطیوں سے درگذر کرتے ہیں اور پھر اُن پر احسان بھی کرتے ہیں۔اور اللہ تعالیٰ احسان کرنےوالوں سے بڑی محبت رکھتا ہے۔محسن کے معنے عربی زبان میں ایسے شخص کے ہوتے ہیں جو شریعت کے تمام احکام کی پابندی کرنے والا ہو۔پس وَ اللّٰهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِيْنَ فرما کراللہ تعالیٰ نے اس طرف اشارہ فرمایا ہے کہ مومن اسی وقت کظمِ غیظ کرتا اور مجرم کو معاف کرتا ہے جب عَفٰی وَ اَصْلَحَ کا حکم پورا ہوتا ہو یعنی اس کے نتیجہ میں دوسرے کی اصلاح ہوتی ہو۔اگر وہ معاف تو کرد تیا ہے