تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 472 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 472

مگر یہ نہیں دیکھتا کہ اس کی معافی کیا نتیجہ پیدا کر ے گی تو وہ محسن نہیں کہلا سکتا کیونکہ اُس نے شریعت کے اُن قواعد کو ملحوظ نہیں رکھا جو اُس نے سزا اور عفو کے سلسلہ میں دئیے تھے۔اس بارہ میں حضرت امام حسنؓ کا بھی ایک نہایت لطیف واقعہ کتابوں میں درج ہے کہا جاتا ہے کہ اُن کے ایک غلام سے ایک دفعہ کوئی اعلیٰ درجہ کا برتن گر کر ٹوٹ گیا جس پر حضرت امام حسن ؓ کے چہر ہ پر غصہ اور ناراضگی کے آثار ظاہر ہوئے۔ا س غلام نے فوراً یہی آیت پڑھ دی اور کہا حضور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَالْکٰظِمِیْنَ الْغَیْظَ مومن اپنے غصہ کو دبا لیتے ہیں۔آپ نے فرمایا بہت اچھا میں نے اپنے غصہ کو دور کر دیا۔اس پر اُس نے آیت کا اگلا ٹکڑا پڑھ دیا کہ وَالْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ یعنی مومن صرف غصہ کو دباتے ہی نہیں بلکہ معاف بھی کر تے ہیں۔آپ نے فرمایا جائو میں نے تمہیں معاف کر دیا۔وہ کہنے لگا حضور آگے یہ بھی لکھا ہے کہ وَاللّٰہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔آپ نے فرمایا اچھا میں نے تمہیں آزاد کر دیا۔(فتح البیان زیر آیت آل عمران ۱۳۰) پس ہر جگہ یہ کہنا کہ سزا دو۔نادانی ہے جس طرح ہر جگہ یہ کہنا کہ معاف کر دو۔یہ بھی نادانی ہے۔شریعت نے بتا دیا ہے کہ جہاں سزا دینے کا فائدہ ہو۔وہاں سزادو۔اور جہاں معاف کرنے سے فائدہ ہو وہاں معاف کرو۔مثلاً فوج لڑ رہی ہو تو اُس وقت کوتاہی کرنے والوں کو اگر معاف کر دیا جائے تو دوسروں کو بھی سستی کی جرأت ہو تی ہے اور اس طرح ساری فوج تباہ ہو جاتی ہے۔لیکن اگر کوئی ایسا فعل ہو جس کا اثر صرف ایک شخص کی ذات تک محدود ہو اور اس کے معاف کرنے سے اس کی اصلاح کی امید ہو تو اُسے معاف کر دیا جائےگا۔ایک ناول نویس نے جس کے متعلق عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ تاریخی واقعات کو اپنا تا ہے فرانس کا ایک قصہ بیان کیا ہے کہ فرانس کے بوربن خاندان کو جب ملک سے نکالا گیا تو وہ انگلستان چلاگیا اور لنڈن جا کر بادشاہ نے کوشش کی کہ کسی طرح ملک میں بغاوت پھیلائی جائے۔اُس وقت فرانس میں جمہوریت نہیں تھی۔طوائف الملوکی پائی جاتی تھی غالباً اُس وقت تک نپولین بر سرِ اقتدار نہیں آیا تھا یا اُس کے قریب زمانہ کا یہ واقعہ ہے۔بادشاہ نے لنڈن سے ایک جہاز میں بعض آدمی فرانس بھیجے تا کہ وہ فرانس جا کر بغاوت پھیلائیں۔جہاز کے نچلے حصہ میں ہتھیار بھی رکھے ہوئے تھے اور توپیں زنجیر کے ساتھ بندھی ہوئی تھیں۔ایک شخص صفائی کے لئے وہاں گیا تو اُس سے ایک زنجیر کھل گئی اور توپ جہاز کے اندر لڑھکنے لگی اور خطرہ پید ا ہو گیا کہ کہیں جہاز ٹوٹ نہ جائے۔سارے لوگ جہاز کو بچانے کے لئے بھاگے۔بادشاہ کا نمائندہ بھی وہاں موجود تھا۔یہ حالت دیکھ کر اس شخص نے جس سے کنڈا کھلا تھا چھلانگ لگا دی اور اپنی جان کو انتہائی خطرہ میں ڈال کر کنڈا لگا نے میں کامیاب ہو گیا۔اس پر بادشاہ کے نمائندہ نے