تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 43
خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ١ؕ سَاُورِيْكُمْ اٰيٰتِيْ انسان کے اندر جلد بازی کا مادہ رکھا گیا ہے سو( یادرکھو) میں تم کواپنے نشان دکھائوںگا پس فَلَا تَسْتَعْجِلُوْنِ۠۰۰۳۸ تم جلد بازی سے کام نہ لو۔تفسیر۔فرماتا ہے۔محمدؐ رسول اللہ کو حقارت کی نگاہ سے دیکھنے کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ وہ سمجھتے ہیںکہ ہم اس کے مخالف ہیں۔لیکن پھر بھی ہم پر عذاب نہیں آتا۔گویا محمدؐ رسول اللہ کی ہنسی اور تحقیر صرف اس لئے ہے کہ عذاب میںدیر ہو رہی ہے اور یہ چاہتے ہیں کہ عذاب جلدی آجائے۔آیت کےا لفاظ یہ ہیں انسان جلدی سے پیدا کیا گیا ہے مگر جلدی کوئی مادہ نہیں جس سے کوئی دوسری چیز بنائی جائے یہ عربی زبان کاایک محاورہ ہے۔چنانچہ عربی زبان میںجب یہ کہا جائے کہ خُلِقَ مِنْ فُلَانٍ تو اس کے یہ معنے نہیں ہوتے کہ وہ شخص فلاں مادہ سے بنایاگیا ہے بلکہ اس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ فلاں امر اس کی طبیعت میںداخل ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بھی اس محاورہ کو مختلف مقامات پر استعمال فرمایا ہے۔سورئہ روم میںفرماتا ہے۔اَللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ ضُؔعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ ضُؔعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ ضُؔعْفًا وَّ شَيْبَةً(الروم:۵۵) کہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیںضعف سے پیدا کیا ہے۔اب بتاؤ کیا ضعف کوئی مادہ ہے اس کامطلب صرف یہ ہے کہ انسان کی فطرت میں کمزوری رکھی گئی ہے چنانچہ جب بچہ پیدا ہوتاہے فطرتی طور پر سخت کمزور ہوتاہے۔پھر آہستہ آہستہ اس کے قویٰ مضبوط ہوتے ہیںمگر بڑھاپے میں پھر اس پرضعف طاری ہو جاتا ہے اور اس کی طاقتیں اسے جواب دے دیتی ہیں۔پس یہاں خَلَقَكُمْ مِّنْ ضُؔعْفٍ سے مراد بچے کے قویٰ کی کمزوری اورا س کاضعف ہے۔یہ مراد نہیںکہ کمزوری کوئی مادہ ہے جس سے و ہ پید اہوتاہے اسی طر ح قرآن کریم میں ذکر آتاہے کہ ابلیس نے کہا کہ خَلَقْتَنِيْ مِنْ نَّارٍ وَّ خَلَقْتَهٗ مِنْ طِيْنٍ (ص:۷۷) اے خدا تو نے تو میری طبیعت میں آگ کامادہ رکھا ہے اور اس میں طین کامادہ ہے مجھے توکو ئی بات کہے تو آگ لگ جاتی ہے۔اس لئے میں تو آدم کی طرح دوسرے کی بات کبھی نہیں مان سکتا ارد و میں بھی یہ محاورہ استعمال ہوتاہے چنانچہ کہتے ہیں فلاں شخص تو آگ ہے اب اس کے یہ معنے نہیںہوتے کہ اس کے منہ سے آگ کے شعلے نکل رہے ہیں بلکہ مطلب یہ ہوتاہے کہ اسے کوئی نصیحت کی جائے تو آگ لگ جاتی ہے۔انگریزی میںبھی کہتے ہیںکہ فلاں شخص تو فائر برینڈہے