تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 42
سے آزماتے رہیں گے۔یعنی خدائی طریق یہ ہے کہ وہ کبھی خیر کے ذریعہ بنی نوع انسان کی آزمائش کرتاہے اور کبھی شرکے ذریعہ ان کی آزمائش کرتاہے یعنی کبھی تووہ بنی نوع انسان کو یہ موقعہ دیتاہے کہ خدا تعالیٰ کے انبیا ء ظاہر ہوں تو وہ ان کی فرما نبرداری اور اطاعت کرکے ترقی حاصل کریں اور کبھی تاریکی کے دور میںجب نبیوںکی بعثت پرایک لمبازمانہ گذ ر جاتا ہے وہ لوگوں کوموقعہ دیتاہے کہ ان میں سے سمجھدار اور دور اندیش انسان اپنی عقل سے کام لے کر اس صحیح تعلیم کو جو فطرت کے مطابق ہو اخذ کریں اور بدی کی رو میں بہنے کی بجائے انبیاء کے طریق کو دنیا میںقائم رکھنے کی کوشش کریں یہ دونوں طریق ہیںجن سے لوگوں کی آزمائش کاسلسلہ جاری ہے اسی طریق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ کبھی آسمانی چاند مٹ جائےگا اور تاریکی چھا جائےگی اور کبھی پھردوسرا چاند ظاہر ہوجائے گا۔وَ اِلَيْنَا تُرْجَعُوْنَ اور ہر چاند کامقصد یہ ہوگا کہ وہ لوگوں کو خدا کی طرف لوٹائے۔وَ اِذَا رَاٰكَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ يَّتَّخِذُوْنَكَ۠ اِلَّا هُزُوًا١ؕ اَهٰذَا اور جب تجھے کفار دیکھتے ہیںتو تجھ کو صرف ایک حقیر چیز سمجھتے ہیں (اور کہتے ہیں)کیا یہی شخص ہے جو تمہارے معبودوں الَّذِيْ يَذْكُرُ اٰلِهَتَكُمْ١ۚ وَ هُمْ بِذِكْرِ الرَّحْمٰنِ هُمْ كٰفِرُوْنَ۰۰۳۷ کی کمزوریاں گناتاہے ؟ حالانکہ وہ خود رحمٰن( خدا) کے ذکر کا انکار کرتے ہیں۔حلّ لُغَات۔ھُزُؤٌ۔ھَزَءَ کے معنے ہوتے ہیں سَخِرَ مِنْہُ اس سے ہنسی مذاق کیا (اقرب) او ر ھزؤٌ کے معنے ہوںگے ہنسی اور مذاق۔تفسیر۔فرماتا ہے کافرہمیشہ تیری ہنسی اڑاتے ہیںاور کہتے ہیں کہ کیا یہ شخص تمہارے معبودوں کی تباہی کی خبردیتا ہے اور وہ یہ نہیںسوچتے کہ وہ تو رحمٰن خدا کے ذکرکو مٹانا چاہتے ہیں اگر محمدؐ رسول اللہ ان پیداکردہ شخصیتوں کو مٹاناچاہے جن کو کفار نے خدابنا چھوڑاہے تو یہ ہنسی کی کونسی بات ہے۔گویا آپ تو حقیقی خداکے بھی منکر ہیں لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ان کے جھوٹے معبودوں کا ذکر کرتے ہیں تو ان کاتمسخر اڑاتے ہیں اور کہتے ہیںکہ اس کی کیا حیثیت ہے کہ ہمارے معبودوں کا حقارت کے ساتھ ذکر کرے۔