تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 453 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 453

لَوْ لَاۤ اِذْ سَمِعْتُمُوْهُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ جب تم نے یہ بات سُنی تھی تو کیوں نہ مومن مردوں اور مومن عورتوں نے اپنی قوم کے بِاَنْفُسِهِمْ خَيْرًا١ۙ وَّ قَالُوْا هٰذَاۤ اِفْكٌ مُّبِيْنٌ۰۰۱۳لَوْ لَا متعلق نیک گمان کیا اور یہ کہہ دیا کہ یہ تو ایک بہت بڑا جھوٹ ہے ؟ اور کیوںنہ وہ لوگ جَآءُوْ عَلَيْهِ بِاَرْبَعَةِ شُهَدَآءَ١ۚ فَاِذْ لَمْ يَاْتُوْا بِالشُّهَدَآءِ ( جنہوں نے یہ جھوٹ پھیلا یا تھا ) اس پر چار گواہ لائے ؟ پس جب کہ وہ گواہ نہیں لائے تو فَاُولٰٓىِٕكَ عِنْدَ اللّٰهِ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ۰۰۱۴ اللہ (تعالیٰ) کے فیصلہ کے مطابق وہ جھوٹے ہیں۔تفسیر۔فرماتا ہے کہ خدائی حکم تو احسان کے طور پر نازل ہوگیا۔مگر تمہارا اپنا قومی فرض تھا کہ جب تم نے اس قسم کی بے بنیاد بات سُنی تھی تو تم فوراً کہہ دیتے کہ مومن مرد اور مومن عورتیں ایسی نہیں ہو سکتیں۔یہ محض جھوٹ ہے اگر الزام لگا نے والے سچے تھے تو وہ چار گواہ کیوں نہ لائے۔حضرت عائشہ ؓ تو غلطی سے پیچھے رہ گئی تھیں اور صفوان ؓ کو جنگی انتظام کے ماتحت پیچھے چھوڑا گیا تھا۔پھر بغیر کسی گواہ کی موجودگی کے ایسا اتہام لگانا سوائے جھوٹوں اور کذابوں کے اور کس کا کام ہو سکتا ہے۔پس آئندہ کے لئے یہ قانون یاد رکھو کہ جو لوگ چار گواہ نہیں لائیں گے وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت جھوٹے سمجھے جائیں گے۔اگر کوئی شخص کسی کو ایسا فعل کرتے دیکھتا ہے مگر گواہ نہیں رکھتا تو خواہ وہ اپنے آپ کو کتنا بھی سچا قرار دے اور بیت اللہ میں کھڑے ہو کر قسم کھائے تب بھی خدا تعالیٰ کے حکم اور اُس کے قانون کے مطابق وہ چار گواہ نہ لا سکنے کی وجہ سے جھوٹا اور کذاب ہی ہوگا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کسی کا حق نہیں کہ ایسے شخص کی نسبت جو گواہ نہیں لا سکتا کہے کہ ممکن ہے وہ سچا ہی ہو۔کیونکہ خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ ہم اس کو جھوٹا قرار دیتے ہیںاور جب خدا اسے جھوٹا قرار دیتا ہے تو کسی اور کا کیا حق ہے کہ اُسے سچا قرار دے۔اس آیت سے اصولی طور پر یہ امر مستنبط ہوتا ہے کہ اگر کسی کے متعلق کوئی بری بات سُنی جائے تو مومن کا پہلا