تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 454
فرض یہ ہوتا ہے کہ وہ نیک ظنی کو کبھی ترک نہ کرے۔کیونکہ اگر وہ بُرائی بعد میں دوسرے میں ثابت بھی ہو جائے۔تب بھی اُسے نیک ظنی کا ثواب مل جائےگا۔اور اگر ثابت نہ ہو تو انسان بدظنی کرکے دوہرا مجرم قرار پائےگا ایک تو اس لحاظ سے کہ اس نے بدظنی کی اور دوسرے اس لحاظ سے کہ ایک بے گناہ پر الزام لگاکر اُس نے شریعت کی بے حرمتی کی۔شریعت کہتی ہے کہ جس شخص کے متعلق کوئی بُری بات تمہارے پاس بیان کی جائے تم ہمیشہ اس کے متعلق حسنِ ظن رکھو اور بری بات کہنے والے کو جھوٹا سمجھو کیونکہ اس نے دوسرے کی عزت پر حملہ کیا ہے۔اگر زید تمہارے پاس ایک شخص کی بُرائی بیان کرتا ہے اور تم زید کی بات سن کر اس پر فوراً یقین کر لیتے ہو اور جس کے متعلق کوئی بات کہی گئی ہو اس کو مجرم سمجھنے لگ جاتے ہو تو تم بدظنی کا ارتکاب کرتے ہو۔اور اگر وہ عیب ایسا ہے جس کے لئے شریعت نے گواہی کا کوئی خاص طریق مقرر کیا ہو اہے تو نہ صرف عیب لگانے والا شریعت کا مجرم بنتا ہے بلکہ جو اس کی ہاں میں ہاں ملاتا اور اُس کی تائید کرتا ہے وہ بھی مجرم ہے۔ایسے مواقع پر شریعت کی یہی ہدایت ہے کہ جس کا جرم بیان کیا جاتا ہے اسے بری سمجھو اورجو کسی کا عیب بیان کرتا ہے اس کا جرم چونکہ ثابت ہے اُسے کبھی سچا قرار نہ دو۔وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ فِي الدُّنْيَا وَ الْاٰخِرَةِ اور اگر اللہ (تعالیٰ) کا فضل اور رحمت تم پر دنیا اور آخرت میں نہ ہوتے تو تم کو اس کام (کی وجہ) سے جس میں لَمَسَّكُمْ فِيْ مَاۤ اَفَضْتُمْ فِيْهِ عَذَابٌ عَظِيْمٌۚۖ۰۰۱۵اِذْ تم پڑگئے تھے بہت بڑا عذاب پہنچتا۔اس وجہ سے کہ تم آپس میں ایک دوسرے کی زبان سے اس جھوٹ تَلَقَّوْنَهٗ بِاَلْسِنَتِكُمْ۠ وَ تَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاهِكُمْ مَّا لَيْسَ لَكُمْ کو سیکھنے لگ گئے اور اپنے مونہوں سے وہ بات کہنے لگ گئے جس کا تم کو کوئی علم نہیں تھا ( خدا تم پر ناراض ہوا ) بِهٖ عِلْمٌ وَّ تَحْسَبُوْنَهٗ هَيِّنًا١ۖۗ وَّ هُوَ عِنْدَ اللّٰهِ عَظِيْمٌ۰۰۱۶ اور تم اس بات کو معمولی سمجھتے تھے حالانکہ وہ اللہ کے نزدیک بہت بڑی تھی۔اور کیوں نہ ہوا کہ جب تم نے