تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 41 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 41

ہوںگے وہ اپنے مدارمیں تیزی سے حرکت کر رہے ہیں۔اَلْخُلْد۔مفردات میںہے الْخُلُوْدُ ھُوَ تَبَرِّی الشَّیْءِ مِنْ اِعْتَرَاضِ الْفَسَادِ وَبَقَاؤُہُ عَلَی الْحَالَةِ الَّتِیْ ھُوَ عَلَیْھَا وَ کُلُّ مَا یَتَبَا طَأُعَنْہُ التَّغْیِیْرُ وَ الْفَسَادُ تَصِفُہُ الْعَرَبُ بِالْخُلُوْدِ یعنی کسی چیز کاخراب ہونے سے اور فساد پذیر ہونے سے محفوظ رہنا اور اپنی اصلی حالت پرقائم رہنا اور ہر وہ چیز جس سے تغیر اور خرابی دور ہوتی ہے اور اپنی اصلی حالت پر و ہ قائم رہتی ہے اس کے لئے خلود کالفظ بولاجاتاہے۔کَقَوْلِھِمْ لِلْأَثَافِیْ خَوَالِدُ وَذٰلِکَ لِطُوْلِ مُکْثِہَا لَا لِدَوَامِ بُقَائِھَا چنانچہ چولھےکے پتھروں کو بھی خوالد کہتے ہیںکیونکہ جہاں چولھے بنائےجاتے ہیںوہ پتھر ایک عرصہ تک وہیں پڑے رہتے ہیںاور اس وجہ سے ان کو خوالد نہیں کہتے کہ وہ ابدالا باد تک باقی رہیں گے۔تفسیر۔فرماتا ہے رات اور دن اور سورج اور چاند سب خداہی کے پیدا کردہ ہیںاور کسی غرض سے پیدا کئے گئے ہیں۔رات بھی انسانی ضرورت کوپورا کرتی ہے اور دن بھی اور سورج بھی اور چاند بھی اور سورج اور چاند دونوںایک مقررہ راستہ پرچل رہے ہیں۔یعنی ہمیشہ ہی انسان کو رات اوردن کی ضرورت رہے گی اور سورج اور چاندکے ذریعہ سے ہمیشہ رات اوردن آتے رہیںگے۔اسی طرح روحانی سورج اور روحانی چاند بھی ظاہرہوتے رہیںگے روحانی سورج مرے گا تو روحانی چاند آجائے گا۔چنانچہ فرماتا ہے کہ اے روحانی سورج یعنی محمدؐ رسول اللہ۔اگر تو نے مرناہے تو کیا انہوں نے زندہ رہناہے ؟ہر ایک انسان کے لئے مقدر ہے کہ آخرت کا مزہ چکھے لیکن تیرے مارنے والا خداایک روحانی چاندپیدا کرنے پر بھی قادر ہے پھر اسلام کے لئے مایوسی کی کونسی بات ہے۔كُلُّ نَفْسٍ ذَآىِٕقَةُ الْمَوْتِ١ؕ وَ نَبْلُوْكُمْ بِالشَّرِّ وَ الْخَيْرِ ہرجان موت چکھنے والی ہے اور ہم تمہاری برے اور اچھے حالات سے آزمائش کرینگے۔اور آخر ہماری طرف فِتْنَةً١ؕ وَ اِلَيْنَا تُرْجَعُوْنَ۰۰۳۶ ہی تم کو لوٹاکر لایا جائے گا۔تفسیر۔فرماتا ہے ہر انسان جواس دنیا میںپیدا ہوا ہے اس کے ساتھ خدا نے موت لگائی ہوئی ہے بےاندازہ زندگی کسی کوبھی نہیں ملتی۔وَ نَبْلُوْكُمْ بِالشَّرِّ وَ الْخَيْرِ فِتْنَةً اور ہم تم کو منحوس اور اچھی گھڑیوں کے ذریعے