تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 40
وَ جَعَلْنَا السَّمَآءَ سَقْفًا مَّحْفُوْظًا١ۖۚ وَّ هُمْ عَنْ اٰيٰتِهَا اور ہم نے آسمان کوایک محفوظ چھت( یعنی حفاظت کا ذریعہ) بنایاہے اور پھر بھی وہ اس کے نشانوں (یعنی آسمان سے مُعْرِضُوْنَ۰۰۳۳ ظاہر ہونےوالے نشانوں) سے (جوان کے فائدہ کے لئے ہیں )اعراض کرتے ہیں۔تفسیر۔فرماتا ہے ہم نے آسمان کوایک محفوظ چھت بنایا ہے یعنی جس طرح دور آسمان کے کرے نظام شمسی کی حفاظت کر رہے ہیں اسی طرح وہ لوگ جن پر آسمان سے روحانی پانی اترتاہے۔نظام روحانی کی حفاظت کررہے ہیں مگر پھر بھی لوگ اس کی طرف توجہ نہیںکرتے۔وَ هُوَ الَّذِيْ خَلَقَ الَّيْلَ وَ النَّهَارَ وَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ كُلٌّ اور وہی ہے جس نے رات اور دن کو او ر سورج اور چاند کو پید اکیا ہے یہ سب (آسمانی سیارے) اپنے اپنے محور میں فِيْ فَلَكٍ يَّسْبَحُوْنَ۰۰۳۴وَ مَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِكَ بے روک چل رہے ہیں۔اور ہم نے کسی انسان کوتجھ سے پہلے غیر طبعی عمر نہیںبخشی کیا اگر تو مرجائے تو وہ الْخُلْدَ١ؕ اَفَاۡىِٕنْ مِّتَّ فَهُمُ الْخٰلِدُوْنَ۰۰۳۵ غیرطبعی عمر تک زندہ رہیںگے؟ حلّ لُغَات۔یاد رکھنا چاہیے کہ سَمَآءٌ اور چیزہے اور فَلَکٌ اورچیز ہے فلک درحقیقت نظام شمسی کے پھیلاؤ کانام ہے اور ان وسعتوں کو کہتے ہیں جن میں نظام شمسی کے افراد چکر لگاتے رہتے ہیں اقرب میں ہے اَلْفَلَکُ مَدَارُ النُّجُوْمِ کہ فلک ستاروں کی گردش کی جگہ کانام ہے مفردات میں ہے اَلْفَلَکُ مَجْرَی الْکَوَاکِبِ کہ فلک ستاروں کی حرکت گاہ کانام ہے۔یَسْبَحُوْنَ۔یَسْبِحُوْنَ سَبَحَ سے مضارع جمع مذکر غائب کا صیغہ ہے ا ور اَلسَّبْحُ جو (سَبَحَ کامصدر ہے) کے معنے ہیں اَلْمَرُّ السَّرِیْعُ فیِ الْمَاءِ وَالْھوَاءِ پانی یاہوامیںجلدی سے گذرنا (اقرب) پس یَسْبَحُوْنَ کے معنے