تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 443 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 443

شخص کے پاس ا س کا موجود ہونا ضروری ہے یا قتل میں کسی کا جان سے مارا جانا ضروری ہے۔پھر دوسرے شخص کا اُس جگہ موجود ہونا ضروری ہے اور ایسے شواہد کسی شخص کے متعلق جمع کر دینے اگر نا ممکن نہیں تو مشکل ضرور ہوتے ہیں۔لیکن زنا کے لئے اس کی بیرونی علامات موجود نہیں ہوتیں اس لئے اس پر الزام لگانا آسان ہوتا ہے اس وجہ سے شریعت نے چوری اور قتل کے لئے تو دو گواہوں کی گواہی کو تسلیم کیا۔لیکن بدکاری کے الزام کے متعلق چار گواہوں کی شرط لگائی اور الزام لگانے والوں سے ہمدردی کو بھی سخت جرم قراردیا اور الزام سنتے ہی اس کو جھوٹا قرار دینے کی نصیحت کی۔دوسر ی صورت انسان کے مجرم ہونے کی یہ ہے کہ وہ خود اقرار کرے۔مگر حدیثوں سے پتہ لگتا ہے کہ وہ بھی قاضی کے سامنے اپنے متعلق چار دفعہ گواہی دےگا کہ میں نے ایسا فعل کیا ہے۔مگر ایسی صورت میں بھی شریعت صرف اسی کو مجرم قرار دےگی عورت کو مجرم قرار نہیں دےگی۔بعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ دوسرے کی نسبت الزام لگانا اور بات ہے اور اپنی نسبت الزام لگانا اور کہنا کہ میں نے ایسا فعل کیا ہے یا کسی عورت کا یہ کہنا کہ میرے ساتھ کسی دوسرے نے ایسا فعل کیا ہے بالکل اور بات ہے۔یہ دونوں امور یکساں حیثیت رکھنے والے نہیں سمجھے جا سکتے بلکہ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ اپنی طرف اس الزام کی نسبت دینا کہنے والے کے تقویٰ اور اُس کی نیکی کا ثبوت ہوتا ہے۔حالانکہ اپنی نسبت الزام لگانا تو الزام لگانے والے کی وقاحت اور بے شرمی پر دلالت کرتا ہے نہ کہ اس کے تقویٰ اور پاکیزگی پر۔کیا یو سف علیہ السلام پر عزیز مصر کی بیوی نے اپنی ذات کے متعلق الزام نہیں لگا یا تھا۔پھر کیا اس سے زلیخا کے تقویٰ کا ثبوت ملتا ہے یا اس کی چالبازی اور مکاری کا ثبوت ملتا ہے۔پھر اسی طرح ایک واقعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی ہوا۔ایک شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! میں نے زنا کیا ہے اس پر آپ نے اس کو بلا کر اس کی پیٹھ پر ہاتھ نہیں پھیرا کہ شاباش تم نے کیسا اچھا فعل کیا ہے کہ اپنے جرم کا اقرار کیا ہے بلکہ آپ نے غصہ سے اُس کی طرف سے منہ پھیر لیا۔اُس شخص نے دوسری طرف سے جا کر پھر یہی کہا کہ یا رسول اللہ ! میں نے زنا کیا ہے۔لیکن پھر بھی آپ نے غصہ سے منہ پھیر لیا۔پھر اس نے تیسری جانب سے جا کر کہا کہ یا رسول اللہ ! میں نے زنا کیا ہے مگر آ پ نے پھر بھی اس کی طرف سے منہ پھیر لیا۔جب چوتھی دفعہ اُس نے کہا کہ یا رسول اللہ ! میں نے زنا کیا ہے تو آپ نے فرمایا کیا تو دیوانہ ہے۔یعنی کسی طرح ممکن ہے کہ ایک انسان اپنی ہوش میں ایسی بات کہے جو تو کہہ رہا ہے۔اُس نے کہا یا رسول اللہ ! میں دیوانہ نہیں ہو ں۔تب آپ نے فرمایا چونکہ اس نے چار دفعہ اپنے جرم کا اقرار کیا