تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 442
بعض لوگ یہ بھی کہا کرتے ہیں کہ چونکہ یہاں یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ آیا ہے اس لئے جو واقع میں پاک دامن عورتیں ہوں اُن پر اتہام لگانے والے کے لئے سزا رکھی گئی ہے دوسروں کے لئے نہیں(التفسیرات الاحمدیۃ للجونفوزی جلد دوم صفحہ ۵۵۱)۔حالانکہ اگر یہ درست ہو تو اس کا پتہ کون لگا سکے گا کہ جس پر الزام لگایا گیا ہے وہ فی الواقعہ پاک دامن ہے یا نہیں۔ایک خبیث اور بے باک آدمی بڑی دلیری کے ساتھ کہہ سکتا ہے کہ جس عورت پر میں نے الزام لگا یا ہے۔پہلے اس کی پاکدامنی تو ثابت کرو۔پھر مجھے سزا دو۔اور اس طرح ہر عورت کی عزت خطرہ میں پڑسکتی ہے۔پس اس کے یہ معنے نہیںکہ جب تک عورت کا پاک دامن ہونا ثابت نہ کیا جائے الزام لگانےوالے کو کوئی سزا نہیں مل سکتی بلکہ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ کے یہ معنے ہیں کہ ایسی عورتیں جن پر بد کاری کا الزام لگا یا گیا ہو۔اگر وہ الزام شہادت سے ثابت نہیں ہوتا تو خدا تعالیٰ کی نگاہ میں وہ یقینی طور پر پا کدامن ہیں اور الزام لگانے والا کذاب اور جھوٹا ہے اور اس بات کا مستحق ہے کہ اسے سزا دی جائے۔کیونکہ قاعدہ ہے کہ بارِ ثبوت مدعی پر ہوتا ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہی فرمایا ہے چونکہ الزام لگانےوالا مدعی ہوتا ہے اس لئے ثبوت لانا بھی الزام لگانے والے کا ہی کام ہے۔عورت کا یہ کام نہیں کہ وہ اپنی پاکدامنی کا ثبوت پیش کرے۔اگر یہ معنی نہ کئے جائیں تو جو شخص الزام لگانےوالا ہو وہ کہہ سکتا ہے کہ اگر چہ میں اتہام کا ثبوت نہیں لا سکا مگر ہے وہ درست۔ورنہ تم ثابت کرو کہ جس پر میں نے الزام لگا یا ہے وہ محصنات میں سے ہے۔بہر حال اتہام لگانے والا اگر شریعت کی بیان کردہ شرائط کے مطابق چار گواہ نہیں لائےگا تو وہ مجرم ہوگا اور اگر لے آئےگا تو جس پر اتہام لگا یا گیا ہو وہ مجرم ہو گا۔چونکہ بعض لوگوں کے دلوں میں یہ شبہ پیدا ہو سکتاہے کہ کیوں قرآن کریم نے چار گواہیوں کی شرط لگا ئی ہے اور کیوں دوسرے الزامات کی طرح صرف دو گواہوں پر کفایت نہیں کی اس لئے یہ بتا نا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ دو کی بجائے چار گواہوں کی شرط لگانا بتا تا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس قسم کے واقعات میں کثرت سے جھوٹ بو لا جاتا ہے پس اس وجہ سے زیادہ گواہوں کی شرط لگا دی گئی ہے اور پھر ایک ہی واقعہ کے متعلق چار کی شرط اس لئے لگائی کہ ایک وقت میں پانچ آدمیوں کا اکٹھا ہونا یعنی الزام لگانے والے اور چار گواہوں کا۔یہ ایک ایسا امر ہے کہ اس کا جھوٹ آسانی سے کھولا جا سکتا ہے اور جرح میں ایسے لوگ اپنے قدم پر نہیں ٹھہر سکتے۔کیونکہ پانچ آدمیوں کا ایک جگہ پر موجود ہونا ایک ایسا واقعہ ہے جس کا اخفاء مشکل ہو تا ہے اور پانچ آدمی مل کر یہ جھوٹ بہت کم بنا سکتے ہیں کیونکہ اُن میں سے بعض کی نسبت یہ ثابت کرنا آسان ہوتا ہے کہ یہ تو اُس وقت فلا ں جگہ پر بیٹھا تھا۔پس چونکہ زنا ایک ایسا فعل ہے جس کے لئے بیرونی دلائل نہیں ہوتے جس طرح چوری میں پہلے کسی کے گھر سے مال کا نکلنا ضروری ہے پھرکسی