تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 444 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 444

ہے اس لئے اب اسے سزا دےدو۔(بخاری کتاب الحدود باب رجم المحصن)اس سے ثابت ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کے اس اقدام کی تعریف نہیں کی بلکہ اسے دیوانگی کا فعل قرار دیا ہے۔اور دیوانگی کا شبہ تبھی ہو سکتا ہے جبکہ یہ سمجھا جائے کہ ایک انسان ہوش و حواس میں اپنے اوپر الزام نہیں لگا سکتا۔ورنہ اگر یہ امکان نہ ہوتا تو آپ اُسے دیوانہ کیوں قرار دیتے۔لیکن تعجب ہے کہ اس زمانہ میں بعض لوگ اس کو فرزانگی کا فعل قرار دیتے ہیں۔حالانکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قسم کے اقرار کو دیوانگی اور بے حیائی قرار دیا ہے۔بہر حال اس صورت میں بھی صرف اقرار کرنے والے کوہی مجرم قرار دیا جائے گا۔عورت کو مجرم قرار نہیں دیا جائےگا۔عورت سے اگر ا س کا نام معلوم ہو تو بغیر قسم کے صرف اتنا سوال کیا جا ئے گا کہ آیا یہ درست کہتا ہے یا غلط اور اگر وہ کہہ دے کہ غلط کہتا ہے تو عورت کو چھوڑ دیا جائےگا۔یہ کتنی بڑی خوبی ہے جو اسلام کے اس حکم سے ظاہر ہے۔ہو سکتا ہے کہ ایک ایسا شخص جو خود کوئی عزت نہیں رکھتا دوسروں کی عزت بر باد کرنے کے لئے جھوٹا الزام لگا دے اور کہے کہ میں نے فلاں سے ایسا فعل کیا ہے۔اُس کی اپنی عزت تو ہوتی نہیں کہ اس کی اسے پرواہ ہو لیکن دوسروں کو بد نام کر سکتا ہے اگر اس کی اجازت دی جاتی تو کئی شریر النفس لوگ روزانہ اُٹھ کر دوسروں پر الزام لگا دیتے اور جب انہیں ملامت کی جاتی تو کہہ دیتے کہ ملامت اور غصہ کی بات نہیں میں تو خود اپنے آپ کو بھی ملزم قرار دے رہا ہوں۔پھر میری بات ماننے میں آپ کو کیا عذر ہے۔اگر کسی شریف انسان سے ایک بد معاش جا کر کہہ دے کہ اُس کی بیوی سے اُس نے زنا کیا ہے تو وہ آدمی اس پر ناراض ہوگا یا اُس کی نیکی اور تقویٰ کی تعریف کرنے لگ جائے گا۔اور اپنی بیوی کو بھی اس گناہ میں ملوث قرار دے گا۔اس راستہ کو کھو ل کر دیکھو تو دنیا میں کسی شخص کی عزت محفوظ نہیں رہ سکتی کیونکہ دنیا میں ایسے ہزاروں بے حیا مل سکتے ہیں جو کسی بُغض یا غصہ کی وجہ سے یا دوسروں کے کہے کہلائے صرف ایک شغل کے طور پر اپنے ساتھ دوسرے مردوں یا عورتوں کے ملوث ہونے کا اقرار کرنے کے لئے تیار ہو جائیں گے۔چنانچہ عرب میں تشبیب کا ایک عام رواج تھا یعنی وہ اپنی بے حیائی میں کسی عورت پر الزام لگادیتے کہ میرا اس کے ساتھ ناجائز تعلق ہے اور ان کی غرض یہ نہیں ہوتی تھی کہ وہ اپنا تقویٰ ظاہر کریں بلکہ اس سے اُن کی غرض یہ ہوتی تھی کہ دوسری عورت کو بد نام کریں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تشبیب کرنے والے کو واجب القتل قرار دیا ہے۔پس یہ طریق عقل کے بالکل خلاف ہے اور اس کی اجازت دینے سے فتنہ کا بڑا بھاری دروازہ کھل جاتا ہے۔اسی لئے ہماری شریعت نے ایک فریق کے اقرار سے دوسرے فریق کو مجرم قرار نہیں دیا۔چنانچہ اس بارہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک فیصلہ بھی احادیث سے ثابت ہے۔