تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 428 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 428

غیرالمحصنین ) یعنی شعبہ ؓ کہتے ہیں ایک دفعہ حضرت عمر ؓ نے بیان کیا کہ جب رجم کا حکم نازل ہوا تو میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور آپ ؐ کو کہا کہ مجھے یہ حکم لکھ دیجئیے لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے اس سوال کو پسند نہیں فرمایا۔اور آپ کو یہ حکم لکھ کر نہیں دیا۔اس پر حضرت عمر ؓ نے کہا یا رسول اللہ ! کیا آپ کا یہ خیال نہیں کہ جب شیخ یعنی بڑی عمر کا آدمی جو شادی شدہ نہ ہو زنا کرے تو اس کو کوڑے لگا ئے جائیں اور جب جوان زنا کرے اور وہ شادی شدہ ہو تو اُسے رجم کیا جائے۔اس روایت سے ثابت ہے کہ حضرت عمر ؓ کے نزدیک ایسی کوئی آیت اُتری تھی اور اسی بنا پر انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ وہ یہ آیت آپ کو لکھ دیں مگر آپ ؐ نے اس کو پسند نہیں کیا اور انکار کیا۔اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی قول تھا آیت نہیں تھی۔ورنہ کیا یہ ممکن تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم وحی قرآنی کو چھپا تے۔قرآن تو کہتا ہے کہ يٰۤاَيُّهَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ١ؕ وَ اِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهٗ( المائدۃ:۶۸ ) یعنی اے ہمارے رسول ! تیرے رب کی طرف سے جو کلام تجھ پر اتارا گیا ہے تُو اسے لوگوں تک پہنچا۔اور اگرتو نے ایسا نہ کیا تو گویا تُو نے اس کا پیغام بالکل نہ پہنچایا۔مگر اس کے باوجود آپ خود بھی یہ حکم لوگوں تک نہیں پہنچاتے بلکہ حضرت عمر ؓ کے پوچھنے پر بھی اُن کی بات کو نا پسند کرتے ہیں اور یہ حکم لکھ کر نہیں دیتے اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک قول تھا۔اور حدیثوں سے ثابت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کریم تو تعہد کے ساتھ لکھواتے تھے لیکن حدیث کے لکھنے سے منع فرمایا کرتے تھے چنانچہ حضرت زید بن ثابتؓ کی ہی روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں حدیثیں لکھنے سے منع فرمایا کرتے تھے۔( مسند احمد بن حنبل حدیث زید بن ثابتؓ ) اسی طرح حضرت ابو سعیدؓ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ہدایت دی تھی کہ سوائے قرآن کریم کے ہم کوئی اور بات نہ لکھا کریں تا ایسا نہ ہو کہ قرآنی آیات کے متعلق لوگوں کو شبہ پڑجائے ( مسند احمدبن حنبل مسند ابی سعید الخدری ؓ) حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ کے متعلق بھی احادیث سے ثابت ہے کہ چونکہ انہیں لکھنا آتا تھا اس لئے وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث لکھا کرتے تھے۔مگر بعد میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حدیثیں لکھنے سے منع فرما دیا۔پس حضرت عمر ؓ کا اس کو آیت سمجھنا مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کو لکھ کر دینے سے انکار کرنا بلکہ اس کو ناپسند کرنا بتاتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کو آیت نہیں قرار دیتے تھے بلکہ محض اپنا خیال سمجھتے تھے۔اور عام باتوں کے لکھنے سے چونکہ آپ منع فرماتے تھے اس لئے آپ نے کچھ لکھ کر نہیں دیا۔ایسا معلوم ہو تا ہے کہ حضرت عمر ؓ نے تورات میں سے رجم کا حکم دیکھا ہو گا۔جسے انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بھی پیش