تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 429 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 429

کر دیا۔کیونکہ احادیث سے ثابت ہے کہ آپ تورات پڑھاکرتے تھے۔چنانچہ حدیثوں میں آتا ہے کہ حضرت عمر ؓ ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تورات کا ایک نسخہ لے کر آئے اور کہنے لگے کہ یا رسول اللہ ! یہ تورات ہے۔آپ ؐ اُن کی بات سن کر خاموش ہو گئے۔مگر حضرت عمر ؓ نے تورات کھول کر اُسے پڑھنا شروع کر دیا۔اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ پر ناپسندیدگی کے آثار ظاہر ہوئے۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے یہ بات دیکھی تو وہ حضرت عمر ؓ پر ناراض ہو ئے اور انہوں نے کہا۔کیا تمہیں نظر نہیں آتا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے بُرا منا رہے ہیں۔اُن کی بات سن کر حضرت عمر ؓ کو بھی توجہ پیدا ہوئی اور انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ کو دیکھا اور جب انہیں بھی آپ کے چہرہ پر ناراضگی کے آثار دکھائی دیئے تو انہوں نے معذرت کی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے معافی طلب کی۔( مشکوٰۃ المصابیح کتاب الایمان باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ) پھر یہ امر بھی روایتوں سے ثابت ہے کہ یہودیوں کے ہاں جب تورات کا درس ہو اکرتا تھا تو حضرت عمر ؓ اس میں اکثر شریک ہوا کرتے تھے اور یہودی کہا کرتے تھے کہ تمہارے ہم مذہبوں میں سے ہم تم کو سب سے زیادہ عزیز رکھتے ہیں کیونکہ تم ہمارے پاس آتے جاتے ہو ( کنز العمال کتاب الاذکار من قسم الافعال باب فی القرآن فصل فی التفسیر سورۃ البقرۃ )معلوم ہوتا ہے حضرت عمر ؓ نے تورات سے ہی رجم کا حکم دیکھا تھا جسے انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بھی پیش کر دیا۔پھر اس حدیث کا آخری ٹکڑا بھی بتا تا ہے کہ خود حضرت عمر ؓ کو بھی شبہ تھا کہ یہ آیت ہے یا نہیں کیونکہ خود حضرت عمر ؓ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کرتے ہیں کہ یا رسول اللہ ! کیا آپ کا یہ خیال نہیں کہ بڑی عمر کا آدمی جو شادی شدہ نہ ہو اگر بد کاری کرے تو اس کو کوڑے لگائے جائیں اور جوان اگر شادی شدہ ہو اور وہ بدکاری کرے تو اس کو رجم کیا جائے۔اب یہ خیال اس خیالی آیت کے بالکل خلاف ہے جو اوپربیان ہو ئی ہے۔ا س خیالی آیت کے معنے یہ ہیں کہ جب کوئی بوڑھا مرد یا بوڑھی عورت زنا کرے (قطع نظر اس کے کہ وہ شادی شدہ ہوں یا نہ ہوں ) تو اُن کو رجم کردو۔اگر واقعہ میں حضرت عمر ؓ بھی اس کو قرآنی آیت سمجھتے تو وہ اس کے خلاف اظہار رائے کیوں کرتے۔اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی تصدیق کیوں چاہتے جب اُن کی مزعومہ قرآنی آیت میں بوڑھے مرد اور بوڑھی عورت کا ذکر تھا تو انہوں نے یہ کیوں کہا کہ بڑی عمر کا آدمی جو شادی شدہ نہ ہو اگر بدکاری کرے تو اس کو کوڑے لگائے جائیں اور جوان شادی شدہ اگر بدکاری کرے تو اس کو رجم کیا جائے۔یہ بات بتاتی ہے کہ خود حضرت عمر ؓ کو بھی یہ شبہ تھا کہ یہ قرآنی آیت ہے یا نہیں۔