تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 427 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 427

حضرت عمر ؓ ایسی غلطیاں جلد بازی میں کر لیا کرتے تھے چنانچہ وہ خود روایت کرتے ہیں کہ میں نے ایک دفعہ نماز میں ہشام بن حکیم ؓ کو سورۂ فرقان پڑھتےسنا مگر وہ اس سورۃ کو اُس طرح نہیں پڑھ رہے تھے جس طرح میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھتےسنا تھا۔اس پر مجھے سخت غصہ آیا اور قریب تھا کہ میں نماز میں ہی اُن پر حملہ کر دیتا۔مگر میں نے صبر کیا۔جب انہوں نے سلام پھیرا تو میں نے اُن کی چادر پکڑ لی اور اُن سے کہا کہ اس سورۃ کو اس طرح پڑھنا آپ کو کس نے سکھا یا ہے۔انہوں نے کہا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے۔میں نے کہا تم جھوٹ بولتے ہو۔چلو میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تمہارا معاملہ پیش کر تا ہوں۔اصل سورۃ اور طرح ہے اور تم اور طرح پڑھ رہے ہو۔چنانچہ وہ انہیں کھینچ کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لےگئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہشام تم کس طرح پڑھ رہے تھے۔انہوں نے پڑھ کرسنایا تو فرمایا ٹھیک ہے۔پھر آپ ؐ نے حضرت عمر ؓ سے فرمایا کہ تم پڑھو۔انہوں نے یہ سورۃ اس طرح پڑھی جس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سکھائی تھی آپ ؐ نے فرمایا یہ بھی ٹھیک ہے۔پھر آپ نے فرمایا۔قرآن کریم سات قرأتوں میں نازل کیا گیا ہے۔اس لئے تم ان معمولی معمولی باتوں پر آپس میں لڑا نہ کرو۔جس طرح کسی کی زبان پر کوئی لفظ چڑھے اُسی طرح پڑھ لیا کرے (بخاری کتاب فضائل القرآن باب انزل القرآن علٰی سبعۃ احرف)۔معلوم ہوتا ہے جس طرح حضرت عمر ؓ سے اس جگہ غلطی ہوئی۔اسی طرح زنا کی سزا کے معاملہ میں بھی حضرت عمر ؓ سے غلطی ہوگئی۔اور انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک قول کو وحی سمجھ لیا۔ورنہ فی الواقعہ اگریہ قرآنی آیت ہوتی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت زید بن ثابت ؓ کو حکم دیتے جیسا کہ آپ اور آیتوں کے متعلق حکم دیا کرتے تھے کہ یہ قرآن کی وحی ہے اسے قرآن کریم میں فلاں مقام پر درج کرو۔لیکن حضرت زید بن ثابت ؓ نے اس کو قرآن کریم میں درج نہیں کیا جس کا نسخہ حضرت ابو بکر ؓ کے زمانہ میں تیار ہوگیا تھا یعنی حضرت عمر ؓ کے خلیفہ ہونے سے پہلے۔پس صاف ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عمر ؓ کو غلطی لگی تھی۔اور انہوں نے ایک قول کو وحی سمجھ لیا تھا۔بہر حال اس روایت سے قطعی طور پر ثابت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کوئی ایسا فقرہ تو کہا ہے مگر یہ نہیں کہا کہ یہ قرآن کریم کی آیت ہے۔بالکل ممکن ہے کہ آپ نے اس قسم کی خواہش کا اظہا ر کیا ہو کہ اگر ایسے حالات میں یہ فعل ہو تو میرا دل چاہتا ہے کہ ایسے آدمی کو بائیبل کے احکام کے مطابق رجم کر دیا جائے۔اسی طرح شعبہؓ کی روایت ہے کہ قَالَ عُمَرُ لَمَّا نَزَلَتْ اَتَیْتُ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ اکْتُبْنِیْہاقَالَ شُعْبَۃُ کَاَنَّہٗ کَرِہَ ذٰلَکَ فَقَالَ عُمَرُ اَلَا تَرٰی اَنَّ الشَّیْخَ اِذَا لَمْ یُحْصِنْ جُلِدَ وَاَنَّ الشَّابَّ اِذَا زَنٰی وَقَدْ اَحْصَنَ رُجِمَ ( محلّٰی ابن حزم کتاب الحدود مسألۃ حد الحر و الحرۃ