تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 39
اندر سے اب تک بھی گرم ہے لیکن شروع پیدائش میں زیادہ گرم تھی یعنی تغیرات کے نتیجہ میںجب زمین کی گرمی نے اندر کی چھپی ہوئی چٹانوں کو گلا دیا اور بہت سی گیس پیداہوگئی تو گیس نے زور مار کرباہر نکلنا چاہا اور اس نکلنے کی کوشش سے زلزلہ آیااور آتش فشاں پہاڑ پھوٹے اسی طرح پہاڑوں کے عالم وجود میںآنے میںزمین کے اندرونی حصہ کی سطح پرقشری حصوں کے توازن ISOSTASY) ) کو بھی دخل ہے اس لحاظ سے پہاڑ گویا سطح زمین کے توازن کاذریعہ بھی ہیں اورزمین کے اندر پید اہونے والے معمولی تغیرات کو زمین کی سطح پر کسی بڑے انقلاب کاموجب بننے سے روکتے ہیںسوائے ایسے استثنائی واقعات کے جوزمین پر ایک قیامت کی طرح وارد ہوسکتے ہیں اور جن کا ثبوت کرہ ارض کی گذشتہ تاریخ سے ظاہر ہے جو زمین ہی کے موجودہ آثار سے معلوم ہوئی ہے پس پہاڑ زمین کو تہ و بالا ہونے سے بچاتے بھی ہیں اور ان کے بعض حصے آتش فشانی کی شکل میں زمین کی اندرونی طاقتوں کا نقشہ بھی پیش کرتے رہتے ہیں۔دیکھو (’’مارولز اینڈ مسٹر یز آف سائینس ‘‘ مصنفہ ایلی سن ہاکس ایف آر اے ایس زیرعنوان کرسٹ آف دی ارتھ ‘‘ نیز دیکھیں انسائیکلوپیڈیابرٹینکا زیر عنوان جیالوجی‘‘) اللہ تعالیٰ ان مادی پہاڑوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ روحانی عالم کے اندر جو گرمی بھری ہوئی ہے وہ بھی جو ش میںآکر آتش فشاں پہاڑوں کی طرح دنیاپر تباہی لاتی ہے لیکن پھر ہم روحانی پانی کے ذریعہ سے اس آگ کو ٹھنڈا کردیتے ہیں اور کچھ سبزہ زار میدانوں والے پہاڑ ظاہر ہو جاتے ہیںیعنی اولیاء اللہ۔پھر فرماتا ہے کہ ہم نے ان پہاڑوں کے درمیان بڑے بڑے کھلے راستے بنائے ہیں تاکہ لوگ ان پرچل کر فائدہ اٹھائیں چنانچہ ابتداء تاریخ سے پتہ چلتاہے کہ لشکروںکی نقل و حرکت ہمیشہ پہاڑی رستوں کے ذریعہ ہی ہوا کرتی تھی کیونکہ میدانوں میں رستوں کاپہچاننا مشکل ہوتاہے لیکن پہاڑوں کے اندر قدرت نے جو خود بخود وادیاں اور رستے بنائے ہوئے ہوتے ہیں ان کا پہچاننا آسان ہوتاہے اور دور دور کی قومیںان رستوں کے ذریعہ آسانی کے ساتھ ادھر ادھر آجاسکتی ہیں۔فرماتا ہے جس طرح مادی دنیامیںتمہیںیہ نظارہ نظر آتاہے اسی طر ح روحانی پہاڑوںکی ہدایت کے ساتھ لوگ روحانی سفر طے کرتے ہیںاور اس طرح مادی اور روحانی سلسلہ آپس میںمتوازی چلتاچلا جاتاہے۔