تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 422
كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْيَوْمِ الْاٰخِرِ١ۚ وَ لْيَشْهَدْ کے مجرموں کے متعلق تمہیں رحم نہ آئے اور چاہیے کہ ان دونوں کی سزا عَذَابَهُمَا طَآىِٕفَةٌ مِّنَ الْمُؤْمِنِيْنَ۰۰۳ کو مومنوں کی ایک جماعت مشاہدہ کرے۔حلّ لُغَات۔اِجْلِدُوْاجَلَدَہٗ بِا لسِّیَاطِ کے معنے ہوتے ہیں ضَرَبَہٗ بِھَا وَاَصَابَ جِلْدَہ‘ اُس نے اُسے کوڑے سے مارا اَور کوڑے کے نشان اس کے چمڑے پر پڑگئے ( اقرب ) پس اِجْلِدُوْا کے معنے ہوںگے تم کوڑے سے مارو۔رَاْفَۃٌ الرَّأْفۃُ : اَلرَّحْمَۃُ رأفت کے معنے رحمت کے ہوتے ہیں۔( مفردات) تفسیر۔سورۂ نور کی ابتداء بعض ایسے احکام سے کی گئی ہے جن کو نظر انداز کرنا انسانی تمدن میں کئی قسم کی خرابیاں پیدا کر دیتا ہے۔چنانچہ نسل انسانی کے بقاء اور اس کی حفاظت کے قوانین سے اس سورۃ کو شروع کیا گیا ہے تاکہ جسمانی اور اخلاقی حفاظت کے قوانین کو مدنظر رکھتے ہوئے روحانی ترقیات کی طرف انسان کی توجہ پھرےیہ ایک یقینی بات ہے کہ جس طرح جسمانی حفاظت کے قواعد کو مدنظر نہ رکھنے سے انسانی جسم تباہ اور قوتیں برباد ہو جاتی ہیں۔اسی طرح روحانی تعلقات میں غلطی کرنے سے بھی بڑے بھاری نقصانات پیدا ہوتے ہیں اور روحانی کوششوں کے نتائج مخلوط ہو جاتے ہیں۔جسمانی تعلقات میں دیکھو بظاہر جس طرح جائز تعلق رکھنے والے مردو عورت ملتے ہیں اور بچہ پیدا ہو جاتا ہے۔اسی طرح ناجائز تعلق رکھنے والے بھی ملتے ہیں اور ان کے تعلق سے بھی بچہ پیدا ہو جاتا ہے۔لیکن پہلا تعلق جہاں انسانی تمدن کو ترقی دینے والا ہے وہاں ناجائز تعلق کے نتیجہ میں انسانی تمدن کے سر پر کلہاڑا رکھ دیا جاتا ہے اور آئندہ نسلیں ایسی مشکوک ہو جاتی ہیں کہ اُن کا امتیاز کرنا ہی ناممکن ہو جا تا ہے۔اسی طرح روحانی تعلق پیدا کرنے میں جب لوگ احتیاط سے کام نہیں لیتے اور غلط طریق اختیار کر لیتے ہیں یعنی جس سے روحانی تعلق پیدا کرنا چاہیے اُس سے نہیں کرتے بلکہ جس سے نہیں کرنا چاہیے اُس سے کر لیتے ہیں تو اُس سے بھی بڑے خوفناک نتائج نکلتے ہیں مگر بہت لوگ ہیں جو اس بات کو نہیں سمجھتے حالانکہ اَرواح کا بھی آپس میں تعلق ہوتا ہے۔اور جب تک اُن کا تعلق جائز اور صحیح