تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 423 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 423

جسمانی تعلقات میں دیکھو بظاہر جس طرح جائز تعلق رکھنے والے مردو عورت ملتے ہیں اور بچہ پیدا ہو جاتا ہے۔اسی طرح ناجائز تعلق رکھنے والے بھی ملتے ہیں اور ان کے تعلق سے بھی بچہ پیدا ہو جاتا ہے۔لیکن پہلا تعلق جہاں انسانی تمدن کو ترقی دینے والا ہے وہاں ناجائز تعلق کے نتیجہ میں انسانی تمدن کے سر پر کلہاڑا رکھ دیا جاتا ہے اور آئندہ نسلیں ایسی مشکوک ہو جاتی ہیں کہ اُن کا امتیاز کرنا ہی ناممکن ہو جا تا ہے۔اسی طرح روحانی تعلق پیدا کرنے میں جب لوگ احتیاط سے کام نہیں لیتے اور غلط طریق اختیار کر لیتے ہیں یعنی جس سے روحانی تعلق پیدا کرنا چاہیے اُس سے نہیں کرتے بلکہ جس سے نہیں کرنا چاہیے اُس سے کر لیتے ہیں تو اُس سے بھی بڑے خوفناک نتائج نکلتے ہیں مگر بہت لوگ ہیں جو اس بات کو نہیں سمجھتے حالانکہ اَرواح کا بھی آپس میں تعلق ہوتا ہے۔اور جب تک اُن کا تعلق جائز اور صحیح طور پر نہ ہو خراب نتیجہ نکلتا ہے اور خواہ کتنی کوشش کی جائے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔دیکھ لو ایک طالب علم ایک استاد سے کچھ نہیں سیکھ سکتا لیکن دوسرے اُستاد سے بہت کچھ سیکھ لیتا ہے۔ایک افسر کے ماتحت ایک شخص اچھی طرح کا م نہیں کرتا لیکن دوسرے افسر کے ماتحت وہی شخص خوب عمدگی سے کام کرتا ہے۔ایک تاجر کو اگر دوسرے تاجر سے ملا دیا جائے تو اُن کا ملنا نقصان کا موجب ہوتا ہے لیکن ایک اور کے ساتھ ملنے سے اُس کی تجارت خوب ترقی کر جاتی ہے۔پس اَرواح کا بھی آپس میں تعلق ہوتا ہے مگر یہ تعلق خدا ہی پیدا کرتا ہے۔جو دو طرح ہوتا ہے یا تو اس طرح کہ ایسی روح کے متعلق دنیا میں خدا تعالیٰ کی طرف سے اعلان کر دیا جاتا ہے کہ اس سے تعلق رکھنے والے روحانی فائدہ اُٹھائیں گے اور یا ایسا ہوتا ہے کہ اعلان تو نہیں ہوتا ہاں انسان اپنی کوشش اور سعی سے اس کو دریافت کر لیتا ہے۔پہلی شق میں مامورین اور اُن کے خلفا ء شامل ہیں اور دوسری شق میں غیر مامور اور اُن کے خلفا ء داخل ہیں۔جب اُن سے تعلق ہو تب روحانی طور پر نیک نتائج نکلتے ہیں ورنہ نہیں۔پہلی قسم کی ارواح کے متعلق تو چونکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے اعلا ن ہو جاتا ہے اس لئے اُن کی تلاش میں کوئی دقت پیش نہیں آتی لیکن دوسری قسم کی ارواح کے متعلق عقل اور فراست سے جستجو کرنا ضروری ہوتا ہے اور اگر کوئی شخص ان کے لئے کامل جستجو نہیں کرتا اور اُن سے تعلق نہیں رکھتا تو دوسرے لوگوں سے خواہ وہ بیس بیس سال بھی تعلق رکھے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔پس روحانی تعلقات کی طرف توجہ دلانے کے لئے اس سورۃ کو مرد و عورت کے تعلقات سے شروع کیا گیا ہے۔اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ زانیہ عورت اور زانی مرد میں سے ہر ایک کو سَو سَو کوڑے لگائو۔اور اس حکم الٰہی کو سرانجام دینے کے سلسلہ میں تمہارے دل میں کوئی نرمی پیدا نہ ہوبلکہ سزا دیتے وقت کچھ اور مومنوں کو بھی بلالیا کرو۔قرآ ن کریم کی اس آیت سے بالبداہت ثابت ہے کہ زانی مرد اور زانیہ عورت کی سزا ایک سو کوڑے ہیں۔اور سورۂ نساء رکوع ۴ میں آتا ہے کہ یہ سزا اُن عورتوں اور مردوں کے لئے ہے جو آزاد ہوں۔جو عورتیں آزاد نہ ہوں اُن کی سزا بد کاری کی صورت میں نصف ہے یعنی پچا س کوڑے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔فَاِذَا اُحْصِنَّ فَاِنْ اَتَیْنَ بِفَاحِشَۃٍ فَعَلَیْھِنَّ نِصْفُ مَا عَلٰی الْمُحْصَنٰتِ مِنَ الْعَذَابِ ( النساء :۲۶) یعنی جب وہ عورتیں جو آزاد نہ ہو ں دوسروں کے نکاح میں آجائیں تو اگر وہ کسی قسم کی بے حیائی کی مرتکب ہوں تو اُن کی سزا آزاد عورتوں کی نسبت نصف ہوگی۔اس آیت سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ مقررہ سزا ایسی ہے جو نصف ہو سکتی ہے۔اور سو کوڑوں کی نصف سزا پچاس کوڑے بن جاتی ہے۔لیکن بعض لوگ اس آیت کے متعلق یہ بیان کرتے ہیں کہ یہ سزا بعد میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کی شکل میں بد ل دی تھی۔یعنی آپ نے یہ حکم دیا تھا کہ بجائے اس کے کہ کوڑے مارے جائیں رجم کرنا چاہیے (شرح فتح القدیر الجزء الرابع صفحہ ۱۲۵)۔لیکن ظاہر ہے کہ اگر یہ معنے کئے جائیں تو نہ صرف محولہ بالا آیتِ نور ہی منسوخ ہو جاتی ہے بلکہ سورۂ نساء کی آیت بھی بالکل بے معنی ہو جاتی ہے کیونکہ اس میں صاف بتا یا گیا ہے کہ لونڈی کی سزا آدھی ہے اور رجم کا آدھا قیاس میں بھی نہیں آسکتا۔پس اس آیت کی صریح اور واضح مفہوم کے ہوتے ہوئے اور سورۃ نساء کی آیت کی تصدیق کی موجودگی میں یہ بات بغیر کسی شک اور شبہ کے کہی جا سکتی ہے کہ قرآن کریم میں زنا کی سزا آزاد عورت اور مرد کے لئے سو کوڑے ہیں اور لونڈی یا قیدی کے لئے پچا س کوڑے ہیں۔