تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 419 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 419

صبح کے ہونے سے پہلے اور دوپہر کو اور رات گئے وہ خادم جو جنگی قیدی ہیں اور نابالغ بچے بھی اُن کمروں میں نہ جایا کریں جن میں میاں بیوی رہتے ہیں۔ہاں ان وقتوں کے علاوہ جو لوگ گھر کا حصہ ہیں وہ آجا سکتے ہیں۔اس میں تمہاری اخلاقی بہتری ہے۔اور جب بچے جوان ہوجائیں تو اُن پر بھی نوجوانوں والے احکام کا اطلاق ہونا چاہیے۔اسلامی پردہ اُن عورتوں کے لئے ہے جو جوان اور شادی کے قابل ہیں۔بوڑھی عورتیں اگر چاہیں تو اس پردہ کو ترک کر سکتی ہیں۔مگر وہ بھی زینت کرکے باہر نہ نکلیں۔(آیت ۵۹ تا ۶۱) جو لوگ جسمانی طورپر معذور ہیں جو قریبی رشتہ دار ہیں اگر ایک دوسرے کے گھر سے بن بُلائے کھانا کھا لیں تو ہر ج نہیں۔مگر دوسرے لوگوں کو چاہیے کہ دعوت کے بغیر ایک دوسرے کے گھر کھانے کے وقت نہ جایا کریں۔(آیت ۶۳) عائلی نظام کے بعد یاد رکھو کہ قومی نظام بھی نہایت اہم شے ہے بلکہ عائلی اور انفرادی نظام سے بالا ہے۔اس لئے چاہیے کہ جب کوئی قومی مجلس ہو تو بلا اجازت افسر وہاں سے کوئی نہ جائے ( جیساکہ بعض پارلیمنٹوں نے آج کل قانون بنا رکھا ہے ) جو لوگ اجازت سے جائیں اور قانون شکن نہ ہوں ایسوں کو ضرورت کے وقت اجازت دے دینی چاہیے۔(آیت ۶۳) اے مومنو! دنیوی نظام سے بھی اہم تر دینی نظام ہے۔اس لئے رسول کی آواز کو دوسروں کی آوازوں کی طرح مت سمجھو۔جو لوگ رسول کی مجلس سے بغیر اجازت چلے جاتے ہیں وہ خدا کے نافر مان ہیں اُن کو عذاب سے ڈرنا چاہیے۔( آیت ۶۴ ) پھر فرماتا ہے جو کچھ آسمان اور زمین میں ہے وہ خداہی کا ہے اور وہ تمہارے معیارِ اخلاق کو خوب جانتا ہے۔پس اس کے بتائے ہوئے طریق پر چلو تا کہ اس کی مخلوق تمہارا ساتھ دے اور خدا تعالیٰ کی مدد بھی تم کو حاصل ہو۔( آیت ۶۵)