تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 418
بلکہ حکومت کو اور دوسرے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ خود اس کی طرف سے اس کی آزادی کی رقم ادا کردیں۔اسی طرح جو عورتیں جنگی قیدی ہوں اور تمہارے قبضہ میں ہوں اُن پر بھی ایسے احکام جاری نہ کرو کہ وہ بدکاری پر مجبور ہو جائیں۔اگر تم ایسے حالات میں ان کو رکھو گے تو پھر تم ذمہ دار ہو گے وہ نہیں۔ا ن باتوں میں تمہارے لئے اعلیٰ درجہ کی تعلیم دی گئی ہے اور تم سے پہلے جو لوگ گذرے ہیں اُن سے بڑھ کر روحانی مرتبے دینے والی یہ تعلیم ہے۔(آیت ۳۳ تا ۳۵) زمین اور آسمان کی روشنی سب خدا سے ہی آتی ہے پھر اُس روشنی کی حقیقت بیان کی گئی ہے اور بتا یا گیا ہے کہ یہ خدائی نور مسلمانوں میں ظاہر ہونے والا ہے اور ان کو عزت بخشنے والا ہے۔(آیت ۳۶ تا ۳۹ ) پھر بتا یا کہ جو لوگ اسلام کو نہیں مانیں گے چونکہ اُن کے اخلاق کی بنیاد یا تو ایک غیر مصفّٰی شریعت پر ہوگی یا صرف انسانی ذہنوں پر ہوگی (جیسے مسیحیوں کی ) اس لئے اُن کی تدبیریں کبھی کامیاب نہیں ہوںگی اور اُن کی کوششیں رائیگاں چلی جائیں گی اور اصلاح قومی کے کام کو وہ بڑا مشکل پائیں گے۔کیونکہ اصلاح بغیر خدائی ہدایت کے نہیں ہو سکتی (یعنی بغیر شریعت کے )۔( آیت ۴۰۔۴۱) پھر فرماتا ہے کہ کیا انسانوں کو یہ نظر نہیں آتا کہ تمام کائنات میں خدا تعالیٰ کے قانون سے برکت ہی برکت نظر آرہی ہے۔اور تمام قانونِ قدرت خدا تعالیٰ کی ایک بہت بڑی رحمت نظر آرہا ہے پھر یہ کیونکر سمجھتے ہیں کہ اُسی خدا کا بنایا ہوا قانونِ شریعت ایک لعنت ہے۔انسان اگر اپنے لئے صحیح رستہ تلاش کر سکتا ہے تو خدا اُس کے لئے صحیح رستہ کیوں تلاش نہیں کر سکتا۔( آیت ۴۲ تا ۴۷ ) مگر یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ محض منہ کے ایمان سے کچھ نہیں بنتا بلکہ کوشش یہ ہونی چاہیے کہ احکامِ الٰہیہ پر عمل کیا جائے۔یہ نہ ہو کہ جب فائدہ دیکھا عمل کر لیا اور جب فائدہ نہ ہوا تو چھوڑ دیا۔( آیت ۴۸ تا ۵۵) ہم مسلمانوں سے یہ وعدہ کرتے ہیں کہ اگر وہ ہمارے بتائے ہوئے طریق پر چلیں گے تو ہم انہیں دین و دنیا میں بادشاہ بنا دیں گے۔(یعنی اپنے اپنے وقت پر مناسب حال دینی و دنیوی لیڈری یا دونوں نعمتیں ایک ہی وقت میں اُن کو ملیں گی۔)اور اُن کے دین کو دنیامیں پھیلا دیں گے اور اُن کے ذریعہ توحید کو دنیا میں قائم کردیں گے۔لیکن ان کو بھی چاہیے کہ وہ خدا تعالیٰ کی عبادت کو قائم کریں۔اپنے مالوں سے غریبوں کی مدد کریں اور محمد رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )کے احکام کی اطاعت کریں اور یہ کبھی خیال نہ کریں کہ اُن کے دشمن بوجہ اپنی طاقت اور کثرت کے اُن پر فاتح ہو جائیں گے وہ کبھی فاتح نہیں ہو ں گے۔(آیت ۵۶ تا ۵۸ ) اے مومنو ! ہم پھر تم کو نصیحت کرتے ہیں کہ اپنی عائلی اور قومی زندگی کو درست کر و۔اور آزادانہ خلا ملا نہ کیا کرو۔