تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 420 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 420

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۰۰۱ (میں) اللہ (تعالیٰ) کا نام لے کر جو بے حد کرم کرنےوالا (اور) با ر بار رحم کرنےوالا ہے( پڑھتا ہوں) سُوْرَةٌ اَنْزَلْنٰهَا وَ فَرَضْنٰهَا وَ اَنْزَلْنَا فِيْهَاۤ اٰيٰتٍۭ بَيِّنٰتٍ ( یہ) ایک ایسی سورۃ ہے جو ہم نے اتاری ہے اور( جس پر عمل کرنا) ہم نے فرض کیا ہے اور اس میں ہم نے اپنے لَّعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ۰۰۲ روشن احکام بیا ن کئے ہیں تا کہ تم نصیحت حاصل کرو۔تفسیر۔سورۃ نور کو جو امتیازی خصوصیات حاصل ہیں اُن کی وجہ سے اس کی ابتداء ہی سُوْرَۃٌ سے کی گئی ہے۔حالانکہ سورۃ فاتحہ سے لے کر قرآن کریم کے آخر تک ایک سو چودہ (۱۱۴) سورتیں ہیں مگر سورۃ نور کے سوا اَور کوئی سورۃ ایسی نہیں جس کے ابتداء میں ہی سُوْرَۃٌ کا لفظ رکھ کر اس کی اہمیت کی طرف توجہ دلائی گئی ہو۔درحقیقت اس میں حکمت یہ ہے کہ عربی زبان میں سُوْرَۃٌ کا لفظ کئی معانی پر مشتمل ہوتا ہے اور وہ سارے کے سارے اس سورۃ پر نہایت عمدگی سے چسپاں ہو جاتے ہیں۔چنانچہ لغت عرب کے لحاظ سے سورۃ کے ایک معنے درجہ کے ہوتے ہیں۔دوسرے معنے بزرگی اور شرف کے ہوتے ہیں۔تیسرے معنے نشان اور علامت کے ہوتے ہیں۔چوتھے معنے ایسی عمارت کے ہوتے ہیں جو بلندی میں آسمان سے باتیں کر رہی ہو۔اور خوبصورت بھی ہو۔پانچویں معنے ایسی چیز کے ہوتے ہیں جو اپنی ذات میں مکمل ہو ( اقرب) اور چھٹے معنے کسی چیز کے حصہ اور جزو کے ہوتے ہیں ( تفسیر قرطبی )ـ۔ان معانی کے اعتبار سے اس جگہ سُوْرَۃٌ کا لفظ استعمال فرما کر اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ یہ سورۃ قرآن کریم کا ایک اہم حصہ ہے جس میں انسان کی تمدنی ، اخلاقی اور روحانی ترقی کے متعلق ایک جامع اور مکمل تعلیم دی گئی ہے۔یہ ایک بلند اور نہایت درجہ خوبصورت روحانی تعلیم پر مشتمل ہے جس پر عمل کرنے سے انسان خدا تعالیٰ کے حضور اعلیٰ روحانی مراتب حاصل کر لیتا ہے اور دنیا میں بھی شرف اور بزرگی کا حامل بنتا ہے۔اسی طرح اس کے احکام پر عمل کرنےوالے کو دوسرے لوگوں کے مقابلہ میں ایک خاص امتیاز حاصل ہو جاتا ہے اور وہ اخلاق اور روحانیت کی ایک بلند سطح پر کھڑا ہو جاتا ہے۔پھر اس سورۃ کی اہمیت پر اللہ تعالیٰ نے اور زیادہ زور دیا اور فرمایا اَنْزَلْنٰھَا وَفَرَضْنٰھَا۔یعنی