تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 410 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 410

مزدوری اُسے دے۔(مسلم، کتاب الایمان باب صحبة الممالیک و کفارة من لطم عبدہ و البخاری کتاب الایمان باب المعاصی من امر الجاھلیة، الترمذی ابواب الاحکام باب ما جاء ان الوالد یآخذ من مال ولدہ و ابن ماجہ کتاب التجارات باب الحث علی المکاسب و ابواب الرھون باب اجر الاجراء )اسی طرح تجارتوں کے متعلق اور لین دین کے معاملات کے متعلق بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے احکام دئیے بلکہ زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں جس کے متعلق واضح ہدایات دے کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی نوع انسان پر احسان نہ فرمایا ہو۔کوئی کہہ سکتا ہے کہ موجودہ لوگوں پر تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ احسانات کئے لیکن آپ نے پہلوںپر کیا احسان کیا۔سو ایسے لوگوں کو میں بتا نا چاہتا ہوں کہ آپ کے احسانات نہ صرف موجودہ نسل اور آئندہ آنے والی نسلوں پر ہیں بلکہ اُن لوگوں پر بھی ہیں جو آپ سے پہلے گذر چکے۔آپ جس زمانہ میں مبعوث ہوئے اُس وقت تمام انبیاء پر مختلف قسم کے الزامات لگائے جاتے تھے اور عجیب بات یہ ہے کہ ہر نبی پر اُسی قوم نے الزام لگائے جو اُس نبی کو ماننے والی تھی۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر بھی الزام لگا۔حضرت دائود علیہ السلام پر بھی الزام لگا۔حضرت سلیمان علیہ السلام پر بھی الزام لگا۔بلکہ عیسائیوں نے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مستثنٰی کرتے ہوئے کہہ دیا کہ سب نبی نعوذ باللہ چو ر اور بٹ مار تھے(یوحنا باب ۱۰ آیت ۸) مگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نیکی بھی اُن کی نگا ہ میںکیا تھی انہوں نے منہ سے تو کہہ دیا کہ حضرت عیسیٰ بے گناہ تھے۔مگر تفصیلات میں وہ اُن پر الزام لگانے سے بھی باز نہیں آئے چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ وہ کسی کا گدھا بے پوچھے لے گئے اور اُس پر سواری کرتے پھرے (مرقس باب ۱۱ آیت ۲)۔لوگوں کو گالیاں دیتے تھےاور انہیں حرامکار اور بدکار کہتے تھے (متی باب ۷ آیت ۲۳)۔وہ لوگوں کے گناہ اٹھا کر صلیب پر لٹک گئے اور اس طرح نعوذ باللہ لعنتی بنے اور تین دن دوزخ میں رہے(The Lost Books of the Bible p:91 )۔وہ لوگوں کے سؤروں کے گلّے بغیر اُن کے مالکوں کو کوئی قیمت دینے کے تباہ کر دیا کرتے تھے (متی باب ۸ آیت ۳۰ تا ۳۴)۔یہ سب باتیں مسیحی کتب میں لکھی ہیں۔پھر ہندوؤں کو لے لو۔وہ حضرت کرشن ؑ اور حضرت رامچندر ؑ کو اپنا اوتار مانتے ہیں۔مگر رامچندر جی کا سیتا سے جو سلوک بیان کرتے ہیں وہ اگر ایک طرف رکھ لیا جائے اور دوسری طرف ان کی بزرگی اور نیکی دیکھی جائے تو یہ تصّور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ انہوں نے اتنا بڑا ظلم کیاہو۔پھر حضرت کرشن کے متعلق کہتے ہیں کہ وہ مکھن چرا چرا کر لےجایا کرتے تھے حالانکہ وہ خدا تعالیٰ کے نبی تھے(مھارشی وید ویاس شریمد بھاگوت مھا پران دوسرا کھنڈ سکنڈھ ۹۔۱۲)۔غرض تمام انبیاء پر بیسیوں الزامات لگائے جاتے تھے۔یہ صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی ذات ہے جس نے تمام انبیاء پر سے ان اعتراضات کو دور کیا اور بتا یا کہ یہ لوگ نیک پاک اور راستباز تھے ا ن