تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 409 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 409

کا خیال رکھا۔اس کی تعلیم کی نگہداشت کی۔اُس کی تربیت کا حکم دیا اور پھر فیصلہ فرما دیا کہ جس طرح جنت میں مرد کے لئے ترقیات کے غیر متناہی مراتب ہیں اسی طرح عورتوں کے لئے بھی ترقیات کے غیر متناہی دروازے کھلے ہیں۔پھر انسانوں میں قوموں مذہبوں اور حکومتوں کے تفاوت کی وجہ سے اختلاف ہوتا ہے اور اس اختلاف کے نتیجہ میں کئی دفعہ لڑائیاں ہو جاتی ہیں۔مگر جہاں گھمسان کی لڑائی ہو رہی ہو تی ہے جہاں کوئی انسان کسی کی پروا نہیں کرتا وہاں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ یہ آواز بلند ہوتی ہے کہ دیکھنا ان کفار میں سے کسی عورت کو نہ مارنا۔کسی بچے کو نہ مارنا۔کسی پنڈت یا پادری یا راہب کو قتل نہ کرنا۔باغات نہ جلانا۔معبد نہ گرانا۔پھلدار درخت نہ کاٹنا۔جھوٹ اور فریب سے کام نہ لینا۔کسی ایسے شخص کو قتل نہ کرنا جس نے تمہارے سامنے ہتھیار ڈال دئیے ہوں۔زخمی کو نہ مارنا۔کسی کو آگ سے عذاب نہ دینا۔کفار کا مثلہ نہ کرنا(بخاری کتاب الجھاد باب قتل الصبیان فی الحرب ،و باب قتل النساء فی الحرب ،و باب لا یعذب بعذاب اللہ، ومسلم کتاب الجھاد باب فتح مکة،و ابو داؤد کتاب الجھاد باب فی دعا ءالمشرکین ، و باب النھی عن المثلة و مؤطا امام مالک کتاب الجھاد باب النھی عن قتل النساء و طحاوی کتاب السیر باب الشیخ الکبیر ھل یقتل فی دار الحرب۔۔۔)۔گویا تمثیلی زبان میں اگر ہم ان ہدایات کو بیان کریں تو اس کا نقشہ یوں کھینچا جا سکتا ہے کہ مسلمان ایک لمبے عرصہ تک کفار کے مظالم برداشت کرنے کے بعد جب تلواریں سونت سونت کر کفار پر حملہ آور ہوئے تو وہی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو مسلمانوں کو کفار سے لڑا رہے تھے کیا دکھائی دیتا ہے کہ دشمنوں کے آگے بھی کھڑے ہیں اور مسلمانوں سے کہہ رہے ہیں کہ ان پر یہ سختی نہ کرو۔وہ سختی نہ کرو۔گویا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صرف مسلمانوں کے لشکر ہی کی کمان نہیں کر رہے تھے بلکہ آپ کفار کے لشکر کی بھی کمان کر رہے تھے اور انہیں بھی مسلمانوں کے حملہ سے بچا رہے تھے۔پس لڑائیوں میں بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صفت رب العالمین کے مظہر ہونے کا ثبوت نظر آرہا ہے۔پھر غلاموں پر بھی آپ نے احسان کیا اور فرمایا کہ جو شخص کسی غلام کو مارتا ہے وہ گناہ کا ارتکاب کرتا ہے اور اس کا فدیہ یہ ہے کہ وہ اُسے آزاد کردے۔آپ نے فرمایا اپنے غلام سے وہ کام نہ لو جو وہ کر نہیں سکتا اور اگر زیادہ کام ہو تو خود ساتھ لگ کر کا م کرائو اور اگر تم اس کے لئے تیار نہیں تو تمہارا کوئی حق نہیں کہ اس سے کام لو۔اسی طرح اگر غلام کے لئے تمہارے مونہہ سے کوئی گالی نکل جاتی ہے تو تمہارا فرض ہے کہ اُسے فوراً آزاد کردو۔غرض مزدور اور آقا کے لحاظ سے بھی آپ نے صفت رب العالمین کا مظہر بن کر دنیا کو دکھا دیا۔آپ نے ایک طرف مزدور کو کہا کہ اے مزدور تو حلال کما اور محنت سے کام کر اور دوسری طرف آقا سے کہا کہ اے محنت لینے والے تو حد سے زیادہ اس سے کام نہ لے اور اس کا پسینہ خشک ہو نے سے پہلے اس کی